پروین شاکر

کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)

26 December 2025

21سپیکرز
293لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

مقتل وقت میں خاموش گواہی کی طرح

مقتلِ وقت میں خاموش گواہی کی طرح دل بھی کام آیا ہے گمنام سپاہی کی طرح ایک لمحے کو زمانے نے رضا پوچھی تھی گقتگو ہونے لگی ظلِ الٰہی کی طرح ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ٹھرا خامشی بھی تو ہوئی پشت پناہی کی طرح اس نے خوشبُو سے کرایا تھا تعارف میرا اور پھر مجھ کو بکھیرا بھی ہوا ہی کی طرح کُلُھُم ایک دیا اور ہوا کی اقلیم پھیلتی جاۓ مقدر کی سیاہی کی طرح

— پروین شاکر