سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشن طرب میں ہم ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود سر زیر بار ساغر و بادہ نہیں کیا کار جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا
اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے
اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے شام کے وقت سفر کیا کرتے تیری مصروفیتیں جانتے ہیں اپنے آنے کی خبر کیا کرتے جب ستارے ہی نہیں مل پائے لے کے ہم شمس و قمر کیا کرتے وہ مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا سائے پھیلا کے شجر کیا کرتے خاک ہی اول و آخر ٹھہری کر کے ذرے کو گہر کیا کرتے رائے پہلے سے بنا لی تو نے دل میں اب ہم ترے گھر کیا کرتے عشق نے سارے سلیقے بخشے حسن سے کسب ہنر کیا کرتے
ان سے نین ملا کے دیکھو
ان سے نین ملا کے دیکھو یہ دھوکا بھی کھا کے دیکھو دوری میں کیا بھید چھپا ہے اس کا کھوج لگا کے دیکھو کسی اکیلی شام کی چپ میں گیت پرانے گا کے دیکھو آج کی رات بہت کالی ہے سوچ کے دیپ جلا کے دیکھو دل کا گھر سنسان پڑا ہے دکھ کی دھوم مچا کے دیکھو جاگ جاگ کر عمر کٹی ہے نیند کے دوارے جا کے دیکھو