کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

روز مرغا بنا کرے کوئی

روز مرغا بنا کرے کوئی کب تک آخر پٹا کرے کوئی جب کہیں نوکری نہیں ملتی ڈگریاں لے کے کیا کرے کوئی مجھ کو ریڈنگ سے سخت نفرت ہے میں سنوں اور پڑھا کرے کوئی جس میں آتی ہو بو تعصب کی ایسی تاریخ کیا کرے کوئی جن میں جنگ و جدل کے قصے ہوں وہ کتب کیوں پڑھا کرے کوئی غیر ملکی زبان انگلش کو خوا مخواہ کیوں رٹا کرے کوئی نہیں امید کامیابی جب امتحاں دے کے کیا کرے کوئی خوب انصاف ہے کہ درجے میں میں پٹوں اور خطا کرے کوئی کب تک آخر بغیر سمجھے ہوئے فارمولے رٹا کرے کوئی کیفؔ آتا نہیں جواب خدا خط کہاں تک لکھا کرے کوئی

— کیف احمد صدیقی

میرے کمرے سے نکل کر دائرے

میرے کمرے سے نکل کر دائرے پھیلتے جاتے ہیں گھر گھر دائرے اور در بھی کچھ نشر ہونے لگے ایک مرکز پر سمٹ کر دائرے وقت کی دہلیز پر سر پھوڑتے ٹوٹنے لمحوں کے اندر دائرے خود ہی اکثر خود کشی کرنے لگے دائروں سے تنگ آکر دائرے ساری دنیا کو مقید کر گئے آسمانوں سے اُتر کر دائرے توڑ کر ایک دائرہ نکلے جو ہم بل رہے ہیں ہر قدم پر دائرے اب انھیں میں قید رہیئے عمر بھر بن گئے سب کا مقدر دائرے شرخ موجیں لے کے آئے تھے مگر بن گئے کالا سمندر دائرے كيف اب آزادیوں کے نام پر بن رہے ہیں دائروں پر دائر نے

— کیف احمد صدیقی