سپیکرز
گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام
روز مرغا بنا کرے کوئی
روز مرغا بنا کرے کوئی کب تک آخر پٹا کرے کوئی جب کہیں نوکری نہیں ملتی ڈگریاں لے کے کیا کرے کوئی مجھ کو ریڈنگ سے سخت نفرت ہے میں سنوں اور پڑھا کرے کوئی جس میں آتی ہو بو تعصب کی ایسی تاریخ کیا کرے کوئی جن میں جنگ و جدل کے قصے ہوں وہ کتب کیوں پڑھا کرے کوئی غیر ملکی زبان انگلش کو خوا مخواہ کیوں رٹا کرے کوئی نہیں امید کامیابی جب امتحاں دے کے کیا کرے کوئی خوب انصاف ہے کہ درجے میں میں پٹوں اور خطا کرے کوئی کب تک آخر بغیر سمجھے ہوئے فارمولے رٹا کرے کوئی کیفؔ آتا نہیں جواب خدا خط کہاں تک لکھا کرے کوئی
میرے کمرے سے نکل کر دائرے
میرے کمرے سے نکل کر دائرے پھیلتے جاتے ہیں گھر گھر دائرے اور در بھی کچھ نشر ہونے لگے ایک مرکز پر سمٹ کر دائرے وقت کی دہلیز پر سر پھوڑتے ٹوٹنے لمحوں کے اندر دائرے خود ہی اکثر خود کشی کرنے لگے دائروں سے تنگ آکر دائرے ساری دنیا کو مقید کر گئے آسمانوں سے اُتر کر دائرے توڑ کر ایک دائرہ نکلے جو ہم بل رہے ہیں ہر قدم پر دائرے اب انھیں میں قید رہیئے عمر بھر بن گئے سب کا مقدر دائرے شرخ موجیں لے کے آئے تھے مگر بن گئے کالا سمندر دائرے كيف اب آزادیوں کے نام پر بن رہے ہیں دائروں پر دائر نے