سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے
نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے ٹکرا رہی ہے بات وہی میرے کان سے سوتا رہا میں خوف کی چادر لپیٹ کر آسیب چیختے رہے خالی مکان سے اکثر میں ایک زہر بجھے تیر کی طرح نکلا ہوں حادثات کی ترچھی کمان سے پھیلا ہوا ہے حد نظر تک سکوت مرگ آواز دے رہا ہے کوئی آسمان سے تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر راتوں کو بھاگ آئے ہم اپنے مکان سے ممکن ہے خوب کھل کے ہو گفت و شنید آج وہ بھی خفا ہے ہم بھی ہیں کچھ بد گمان سے اے کیفؔ جن کو بغض نئی شاعری سے ہے وہ بھی ترے کلام کو پڑھتے ہیں دھیان سے
یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندے
یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندے لرزتی دھوپ کی آغوش میں سہمے پرندے خدا معلوم کس آواز کے پیاسے پرندے وہ دیکھو خامشی کی جھیل میں اترے پرندے مرے کمرے کی ویرانی سے اکتائے پرندے سلگتی دوپہر میں کس طرف جاتے پرندے حصار جسم سے گھبرا کے جب نکلے پرندے ہوا کی زد میں آ کر دیر تک چیخے پرندے خود اپنے شعلۂ پرواز سے جلتے پرندے خلائے یخ زدہ میں رہ کے بھی سلگے پرندے مرے دست ہوس آلود سے اڑتے پرندے کسی شاخ جوانی تک نہیں پہنچے پرندے ازل سے اک حسیں خوشبو کے دیوانے پرندے ابد تک کیفؔ دشت رنگ میں بھٹکے پرندے