کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے

نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے ٹکرا رہی ہے بات وہی میرے کان سے سوتا رہا میں خوف کی چادر لپیٹ کر آسیب چیختے رہے خالی مکان سے اکثر میں ایک زہر بجھے تیر کی طرح نکلا ہوں حادثات کی ترچھی کمان سے پھیلا ہوا ہے حد نظر تک سکوت مرگ آواز دے رہا ہے کوئی آسمان سے تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر راتوں کو بھاگ آئے ہم اپنے مکان سے ممکن ہے خوب کھل کے ہو گفت و شنید آج وہ بھی خفا ہے ہم بھی ہیں کچھ بد گمان سے اے کیفؔ جن کو بغض نئی شاعری سے ہے وہ بھی ترے کلام کو پڑھتے ہیں دھیان سے

— کیف احمد صدیقی

یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندے

یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندے لرزتی دھوپ کی آغوش میں سہمے پرندے خدا معلوم کس آواز کے پیاسے پرندے وہ دیکھو خامشی کی جھیل میں اترے پرندے مرے کمرے کی ویرانی سے اکتائے پرندے سلگتی دوپہر میں کس طرف جاتے پرندے حصار جسم سے گھبرا کے جب نکلے پرندے ہوا کی زد میں آ کر دیر تک چیخے پرندے خود اپنے شعلۂ پرواز سے جلتے پرندے خلائے یخ زدہ میں رہ کے بھی سلگے پرندے مرے دست ہوس آلود سے اڑتے پرندے کسی شاخ جوانی تک نہیں پہنچے پرندے ازل سے اک حسیں خوشبو کے دیوانے پرندے ابد تک کیفؔ دشت رنگ میں بھٹکے پرندے

— کیف احمد صدیقی