کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام

دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ

دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ کس کو اتنی فرصت ہے جو پہچانے الفاظ ریگ علامت میں بھی جل کر پا نہ سکے مفہوم صحرائے معنی میں بھی بھٹکے انجانے الفاظ دشت ازل سے دشت ابد تک چھان چکا میں خاک اور کہاں لے جائیں گے اب بھٹکانے الفاظ بے معنی ماحول میں رہ کر ذہن ہوا ماؤف مجھ کو بھی پاگل کر دیں گے دیوانے الفاظ اکثر آدھی رات میں لے کر کچھ پتھریلے خواب شیشۂ ذہن سے آ جاتے ہیں ٹکرانے الفاظ شعر و سخن کے مے خانے کا میں ہوں اک مے خوار میرے لئے بادہ ہے تخیل پیمانے الفاظ کیفؔ کبھی اک شعر میں ڈھلنا ہوتا ہے دشوار اور کبھی خود بن جاتے ہیں افسانے الفاظ

— کیف احمد صدیقی

مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا

مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا کبھی فیل امتحاں میں نہ میں بار بار ہوتا جو میں فیل ہو گیا تو سبھی دے رہے ہیں طعنے کوئی دل نواز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا مجھے آج اتنی نفرت سے نہ دیکھتی یہ دنیا جو پڑھائی سے ذرا بھی مرے دل کو پیار ہوتا مرے ماسٹر نہ ہوتے جو علوم و فن میں دانا کبھی مولیٰ بخش صاحب کا نہ میں شکار ہوتا وہ پڑھاتے وقت درجے میں ہزار بار برسے جو مجھے بھی چھینک آتی انہیں ناگوار ہوتا نہ میں تندرست ہوتا نہ کبھی اسکول جاتا کبھی سر میں درد رہتا تو کبھی بخار ہوتا کبھی مدرسے میں آتا کوئی ایسا چاٹ والا کہ جو مفت میں کھلاتا نہ کبھی ادھار ہوتا یہ گدھا جو اپنی غفلت سے ہے بےوقوف اتنا جو یہ خود کو جان جاتا بڑا ہوشیار ہوتا ترے گھر میں کیفؔ تیرا کوئی قدرداں نہیں ہے جو وطن سے دور ہوتا تو بڑا وقار ہوتا

— کیف احمد صدیقی