سپیکرز
حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام
دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ
دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ کس کو اتنی فرصت ہے جو پہچانے الفاظ ریگ علامت میں بھی جل کر پا نہ سکے مفہوم صحرائے معنی میں بھی بھٹکے انجانے الفاظ دشت ازل سے دشت ابد تک چھان چکا میں خاک اور کہاں لے جائیں گے اب بھٹکانے الفاظ بے معنی ماحول میں رہ کر ذہن ہوا ماؤف مجھ کو بھی پاگل کر دیں گے دیوانے الفاظ اکثر آدھی رات میں لے کر کچھ پتھریلے خواب شیشۂ ذہن سے آ جاتے ہیں ٹکرانے الفاظ شعر و سخن کے مے خانے کا میں ہوں اک مے خوار میرے لئے بادہ ہے تخیل پیمانے الفاظ کیفؔ کبھی اک شعر میں ڈھلنا ہوتا ہے دشوار اور کبھی خود بن جاتے ہیں افسانے الفاظ
مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا
مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا کبھی فیل امتحاں میں نہ میں بار بار ہوتا جو میں فیل ہو گیا تو سبھی دے رہے ہیں طعنے کوئی دل نواز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا مجھے آج اتنی نفرت سے نہ دیکھتی یہ دنیا جو پڑھائی سے ذرا بھی مرے دل کو پیار ہوتا مرے ماسٹر نہ ہوتے جو علوم و فن میں دانا کبھی مولیٰ بخش صاحب کا نہ میں شکار ہوتا وہ پڑھاتے وقت درجے میں ہزار بار برسے جو مجھے بھی چھینک آتی انہیں ناگوار ہوتا نہ میں تندرست ہوتا نہ کبھی اسکول جاتا کبھی سر میں درد رہتا تو کبھی بخار ہوتا کبھی مدرسے میں آتا کوئی ایسا چاٹ والا کہ جو مفت میں کھلاتا نہ کبھی ادھار ہوتا یہ گدھا جو اپنی غفلت سے ہے بےوقوف اتنا جو یہ خود کو جان جاتا بڑا ہوشیار ہوتا ترے گھر میں کیفؔ تیرا کوئی قدرداں نہیں ہے جو وطن سے دور ہوتا تو بڑا وقار ہوتا