کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے

دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے سنگ رواں کے دل میں بھی اک زخم آب ہے ہر فرد آج ٹوٹتے لمحوں کے شور میں عصر رواں کی جاگتی آنکھوں کا خواب ہے وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہوا جس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہے اب کوئی نصف دام پہ بھی پوچھتا نہیں یہ زندگی نصاب سے خارج کتاب ہے پلکوں پہ آج نیند کی کرچیں بکھر گئیں شیشے کی آنکھ میں کوئی پتھر کا خواب ہے اے کیفؔ نا قدوں کے تعصب کے باوجود میرا ہر ایک شعر ادب کی کتاب ہے

— کیف احمد صدیقی

آج پھر شاخ سے گرے پتے

آج پھر شاخ سے گرے پتے اور مٹی میں مل گئے پتے جانے کس دشت کی تلاش میں ہیں ریگزاروں میں چیختے پتے کل جنہیں آسماں پہ دیکھا تھا آج پاتال میں ملے پتے اپنی آواز ہی سے خوف زدہ شاخ در شاخ کانپتے پتے مجھ کو اک برگ خشک بھی نہ ملا اب کہاں باغ میں ہرے پتے سارے گلشن کو دے گئے سونا اور خود خاک بن گئے پتے کیفؔ ویرانیٔ گلستاں بھی بعض اوقات لے اڑے پتے

— کیف احمد صدیقی