سپیکرز
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے
دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے سنگ رواں کے دل میں بھی اک زخم آب ہے ہر فرد آج ٹوٹتے لمحوں کے شور میں عصر رواں کی جاگتی آنکھوں کا خواب ہے وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہوا جس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہے اب کوئی نصف دام پہ بھی پوچھتا نہیں یہ زندگی نصاب سے خارج کتاب ہے پلکوں پہ آج نیند کی کرچیں بکھر گئیں شیشے کی آنکھ میں کوئی پتھر کا خواب ہے اے کیفؔ نا قدوں کے تعصب کے باوجود میرا ہر ایک شعر ادب کی کتاب ہے
آج پھر شاخ سے گرے پتے
آج پھر شاخ سے گرے پتے اور مٹی میں مل گئے پتے جانے کس دشت کی تلاش میں ہیں ریگزاروں میں چیختے پتے کل جنہیں آسماں پہ دیکھا تھا آج پاتال میں ملے پتے اپنی آواز ہی سے خوف زدہ شاخ در شاخ کانپتے پتے مجھ کو اک برگ خشک بھی نہ ملا اب کہاں باغ میں ہرے پتے سارے گلشن کو دے گئے سونا اور خود خاک بن گئے پتے کیفؔ ویرانیٔ گلستاں بھی بعض اوقات لے اڑے پتے