کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

آدرش کا پیش کردہ کلام

ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں

ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں ہیں تیز گام سائے سائے جاتے ہیں چمن میں شدت درد نمود سے غنچے تڑپ رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں میں وہ خزاں کا برہنہ بدن شجر ہوں جسے لباس زخم بہاراں پہنائے جاتے ہیں شفق کی جھیل میں جب بھی ہے ڈوبتا سورج تو پاس دھوپ ہی جاتی نہ سائے جاتے ہیں یہ زندگی وہ تڑپتی غزل ہے کیفؔ جسے ہر ایک ساز حوادث پہ گائے جاتے ہیں

— کیف احمد صدیقی