کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا

سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا شام کی آغوش میں سورج بھی تھک کر سو گیا آخر شب میں بھی کھا کر خواب آور گولیاں چند لمحے نشۂ غم سے بہک کر سو گیا یہ سکوت شام یہ ہنگامۂ ذہن بشر روح ہے بے دار لیکن جسم تھک کر سو گیا آخر اس دور پر آشوب کا ہر آدمی خواب مستقبل کے جنگل میں بھٹک کر سو گیا چند دن گلشن میں نغمات مسرت چھیڑ کر شاخ غم پر روح کا پنچھی چہک کر سو گیا آخرش سارے چمن کو دے کے حسن زندگی موت کے بستر پہ ہر غنچہ مہک کر سو گیا زندگی بھر اب اندھیری رات میں ہے جاگنا اب تو قسمت کا ستارہ بھی چمک کر سو گیا پیکر الفاظ میں اک آگ دہکاتا ہوا کاغذی صحرا میں اک شعلہ بھڑک کر سو گیا کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئی جیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیا

— کیف احمد صدیقی

قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے

قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے بات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہ بنے امتحاں حال میں ہم لائے ہیں اک ایسی کتاب ممتحن پوچھے یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے ان کتابوں سے ہے پیچھا بھی چھڑانا مشکل اور یہ بوجھ بھی اب ہم سے اٹھائے نہ بنے کیا کریں کھیل میں کم بخت کشش ہے ایسی جس سے دل اپنا ہٹائیں تو ہٹائے نہ بنے صبح کو آنکھ بھی کھلتی نہیں جلدی اپنی دیر ہو جائے تو اسکول بھی جائے نہ بنے گھر سے بھی سینما جانے کی اجازت نہ ملی اور اسکول سے بھی بھاگ کے آئے نہ بنے کیفؔ خاموش رہا بھی نہیں جاتا مجھ سے اور درجے میں غزل گائیں تو گائے نہ بنے

— کیف احمد صدیقی