سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا
سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا شام کی آغوش میں سورج بھی تھک کر سو گیا آخر شب میں بھی کھا کر خواب آور گولیاں چند لمحے نشۂ غم سے بہک کر سو گیا یہ سکوت شام یہ ہنگامۂ ذہن بشر روح ہے بے دار لیکن جسم تھک کر سو گیا آخر اس دور پر آشوب کا ہر آدمی خواب مستقبل کے جنگل میں بھٹک کر سو گیا چند دن گلشن میں نغمات مسرت چھیڑ کر شاخ غم پر روح کا پنچھی چہک کر سو گیا آخرش سارے چمن کو دے کے حسن زندگی موت کے بستر پہ ہر غنچہ مہک کر سو گیا زندگی بھر اب اندھیری رات میں ہے جاگنا اب تو قسمت کا ستارہ بھی چمک کر سو گیا پیکر الفاظ میں اک آگ دہکاتا ہوا کاغذی صحرا میں اک شعلہ بھڑک کر سو گیا کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئی جیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیا
قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے
قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے بات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہ بنے امتحاں حال میں ہم لائے ہیں اک ایسی کتاب ممتحن پوچھے یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے ان کتابوں سے ہے پیچھا بھی چھڑانا مشکل اور یہ بوجھ بھی اب ہم سے اٹھائے نہ بنے کیا کریں کھیل میں کم بخت کشش ہے ایسی جس سے دل اپنا ہٹائیں تو ہٹائے نہ بنے صبح کو آنکھ بھی کھلتی نہیں جلدی اپنی دیر ہو جائے تو اسکول بھی جائے نہ بنے گھر سے بھی سینما جانے کی اجازت نہ ملی اور اسکول سے بھی بھاگ کے آئے نہ بنے کیفؔ خاموش رہا بھی نہیں جاتا مجھ سے اور درجے میں غزل گائیں تو گائے نہ بنے