سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
جو صدا گونجتی تھی کانوں میں
جو صدا گونجتی تھی کانوں میں منجمد ہو گئی زبانوں میں لمحہ لمحہ پگھل رہی ہے حیات خواب کی یخ زدہ چٹانوں میں کتنے جذبات ہو گئے آہن ان مشینوں کے کارخانوں میں شہد کا گھونٹ بن گیا ہوگا ذائقہ زہر کا زبانوں میں خامشی بھوت بن کے رہتی ہے آج انسان کے مکانوں میں اک حسیں پھول بن کے گرتی ہے برق بھی میرے آشیانوں میں فن کو نیلام کر دیا آخر کیفؔ لوگوں نے چند آنوں میں
چاند
چاند پہلے بھی خوب صورت تھا آج بھی چاند خوب صورت ہے لوگ کہتے ہیں چاند کے اندر ہر طرف ہے مہیب ویرانی ہر قدم پر بھڑکتے جوالا مکھی ہر طرف ریت کی فراوانی ایک بھی چیز فائدے کی نہیں کیا ہوا کیا اناج کیا پانی چاند باطن میں بد نما ہی سہی ظاہراً اک حسین مورت ہے چاند پہلے بھی خوب صورت تھا آج بھی چاند خوب صورت ہے لوگ کہتے ہیں چاند کے اندر ہر طرف اک گھنا اندھیرا ہے یہ تو سورج سے روشنی لے کر صورت آئنہ چمکتا ہے دنیا والوں کے واسطے لیکن اب بھی یہ اک حسین جلوہ ہے چاند کی پہلے بھی ضرورت تھی آج بھی چاند کی ضرورت ہے چاند پہلے بھی خوب صورت تھا آج بھی چاند خوب صورت ہے