کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

جو صدا گونجتی تھی کانوں میں

جو صدا گونجتی تھی کانوں میں منجمد ہو گئی زبانوں میں لمحہ لمحہ پگھل رہی ہے حیات خواب کی یخ زدہ چٹانوں میں کتنے جذبات ہو گئے آہن ان مشینوں کے کارخانوں میں شہد کا گھونٹ بن گیا ہوگا ذائقہ زہر کا زبانوں میں خامشی بھوت بن کے رہتی ہے آج انسان کے مکانوں میں اک حسیں پھول بن کے گرتی ہے برق بھی میرے آشیانوں میں فن کو نیلام کر دیا آخر کیفؔ لوگوں نے چند آنوں میں

— کیف احمد صدیقی

چاند

چاند پہلے بھی خوب صورت تھا آج بھی چاند خوب صورت ہے لوگ کہتے ہیں چاند کے اندر ہر طرف ہے مہیب ویرانی ہر قدم پر بھڑکتے جوالا مکھی ہر طرف ریت کی فراوانی ایک بھی چیز فائدے کی نہیں کیا ہوا کیا اناج کیا پانی چاند باطن میں بد نما ہی سہی ظاہراً اک حسین مورت ہے چاند پہلے بھی خوب صورت تھا آج بھی چاند خوب صورت ہے لوگ کہتے ہیں چاند کے اندر ہر طرف اک گھنا اندھیرا ہے یہ تو سورج سے روشنی لے کر صورت آئنہ چمکتا ہے دنیا والوں کے واسطے لیکن اب بھی یہ اک حسین جلوہ ہے چاند کی پہلے بھی ضرورت تھی آج بھی چاند کی ضرورت ہے چاند پہلے بھی خوب صورت تھا آج بھی چاند خوب صورت ہے

— کیف احمد صدیقی