کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے

ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے آنکھیں کھلیں تو جاگتے خوابوں میں کھو گئے ہم صفحۂ حیات سے جب بے نشاں ہوئے لفظوں کی روح بن کے کتابوں میں کھو گئے آئینۂ بہار کے کچھ عکس مضمحل خوشبو کا رنگ پا کے گلابوں میں کھو گئے دراصل برشگال کے تم آفتاب تھے برسات جب ہوئی تو سحابوں میں کھو گئے نکلے تھے جو بھی آج تلاش ثواب میں وہ زندگی کے سخت عذابوں میں کھو گئے دل کو تھی ایک شہر تمنا کی جستجو لیکن ہم آرزو کے خرابوں میں کھو گئے جب مسئلہ حیات کا کچھ حل نہ ہو سکا ہم کیفؔ فلسفے کی کتابوں میں کھو گئے

— کیف احمد صدیقی

ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں

ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں ہیں تیز گام سائے سائے جاتے ہیں چمن میں شدت درد نمود سے غنچے تڑپ رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں میں وہ خزاں کا برہنہ بدن شجر ہوں جسے لباس زخم بہاراں پہنائے جاتے ہیں شفق کی جھیل میں جب بھی ہے ڈوبتا سورج تو پاس دھوپ ہی جاتی نہ سائے جاتے ہیں یہ زندگی وہ تڑپتی غزل ہے کیفؔ جسے ہر ایک ساز حوادث پہ گائے جاتے ہیں

— کیف احمد صدیقی