سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے
ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے آنکھیں کھلیں تو جاگتے خوابوں میں کھو گئے ہم صفحۂ حیات سے جب بے نشاں ہوئے لفظوں کی روح بن کے کتابوں میں کھو گئے آئینۂ بہار کے کچھ عکس مضمحل خوشبو کا رنگ پا کے گلابوں میں کھو گئے دراصل برشگال کے تم آفتاب تھے برسات جب ہوئی تو سحابوں میں کھو گئے نکلے تھے جو بھی آج تلاش ثواب میں وہ زندگی کے سخت عذابوں میں کھو گئے دل کو تھی ایک شہر تمنا کی جستجو لیکن ہم آرزو کے خرابوں میں کھو گئے جب مسئلہ حیات کا کچھ حل نہ ہو سکا ہم کیفؔ فلسفے کی کتابوں میں کھو گئے
ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں
ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں ہیں تیز گام سائے سائے جاتے ہیں چمن میں شدت درد نمود سے غنچے تڑپ رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں میں وہ خزاں کا برہنہ بدن شجر ہوں جسے لباس زخم بہاراں پہنائے جاتے ہیں شفق کی جھیل میں جب بھی ہے ڈوبتا سورج تو پاس دھوپ ہی جاتی نہ سائے جاتے ہیں یہ زندگی وہ تڑپتی غزل ہے کیفؔ جسے ہر ایک ساز حوادث پہ گائے جاتے ہیں