کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

جب کلاس سے ٹیچر جاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے

جب کلاس سے ٹیچر جاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے ہم مل کر شور مچاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے چھٹی کی اجازت ملتے ہی ہم جیل کے اک قیدی کی طرح اسکول سے باہر آتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے جس وقت پڑھاتے ہیں ٹیچر دل کتنا پریشاں ہوتا ہے لیکن جب کھیل کھلاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے جب ہم کو کسی پکنک کے لیے اسکول کی جانب سے اکثر استاد کہیں لے جاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے درجے میں پڑھاتے وقت اکثر جب میرے سوالوں پر یارو استاد بھی چکر کھاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے بازار سے جا کر میرے لیے ہر ماہ مرے پیارے پاپا بچوں کا رسالہ لاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے ان درسی کتابوں میں ہم کو کچھ لطف نہیں ملتا لیکن جب کیفؔ کی نظمیں گاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے

— کیف احمد صدیقی

اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیا

اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیا لیکن وہ اپنے ساتھ مرا زہر لے گیا اکثر بدن کی قید سے آزاد ہو کے بھی اپنا ہی عکس دور سے میں دیکھنے گیا دنیا کا ہر لباس پہننا پڑا اسے اک شخص جب نکل کے مرے جسم سے گیا ایسی جگہ کہ موت بھی ڈر جائے دیکھ کر میں خود کو زندگی سے بہت دور لے گیا محسوس ہو رہا ہے کہ میں خود سفر میں ہوں جس دن سے ریل پر میں تجھے چھوڑنے گیا کتنی سبک سی آج مرے گھر کی شام تھی میں فائلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے گیا اشعار کا نزول ہے خالی دماغ میں اے کیفؔ تو نہ جانے کہاں چھوڑنے گیا

— کیف احمد صدیقی