کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی

مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی اور کھیلوں سے محبت ہی سہی میں نے اس سے تو بڑے کام لیے آپ کو کھیل سے وحشت ہی سہی امتحاں سے میں نہیں گھبراتا فیل ہونا مری قسمت ہی سہی پڑھنے والوں نے بھی کیا کچھ نہ کیا نقل کرنا مری عادت ہی سہی میں نے تو صرف گزارش کی تھی سب کی نظروں میں شکایت ہی سہی میں کسی سے نہ لڑوں گا ہرگز دب کے رہنا مری فطرت ہی سہی میں نہ چھوڑوں گا شرافت کا چلن یہ شرافت مری ذلت ہی سہی کبھی چومے گی قدم خود منزل آج ہر گام پہ دقت ہی سہی یہ مصیبت بھی بڑی دل کش ہے زندگی ایک مصیبت ہی سہی کیفؔ اک دن یہ بنا دے گی تجھے شعر گوئی تری عادت ہی سہی

— کیف احمد صدیقی