کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوں

نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوں پڑھنا نہ تھا تمہیں اگر درجے میں پڑھنے آئے کیوں کیونکر ہم امتحان دیں سوئیں گے جا کے باغ میں پڑھنے کو آدھی رات تک کوئی ہمیں جگائے کیوں بیٹھے ہیں اپنی سیٹ پر کیسے بھگائیں ماسٹر آئے ہیں دے کے فیس ہم کوئی ہمیں بھگائے کیوں چیخیں گے خوب ہم یہاں چاہے خفا ہوں میہماں نفرت ہو جس کو شور سے گھر میں ہمارے آئے کیوں کوئی پڑوسی تنگ ہو چاہے کسی سے جنگ ہو گھر ہے یہ اپنے باپ کا کوئی ہمیں چپائے کیوں کانا خدا نے کر دیا اس میں ہے اپنی کیا خطا گالی بکیں گے خوب ہم کوئی ہمیں چڑائے کیوں دیکھو تو پیٹ بن گیا آخر غبارہ گیس کا کھاتے ہو اتنا گوشت کیوں پیتے ہو اتنی چائے کیوں ساتھی ہوں یا اساتذہ آئے کسی کو کیا مزہ درجے میں کوئی بے محل کیفؔ کی غزلیں گائے کیوں

— کیف احمد صدیقی

ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں

ہاتھ اِنصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹُوں جُرم قانوُن کرے، اور سزا میں کاٹُوں دُودھ کی نہر ، شہنشاہ محل میں لے جائے ! تیشۂ خُوں سے پہاڑوں کا گَلا میں کاٹُوں تیرے ہاتھوں میں ہے تلوار، مِرے پاس قَلَم بول! سر ظُلم کا ، تُو کاٹے گا یا میں کاٹُوں اب تو بندے بھی، خُدا بندوں کی تقدِیر لکھیں دے وہ طاقت مجھے، اُن سب کا لِکھا میں کاٹُوں پاؤں ہوتے ہوئے ، کب تک چلوں بیساکھیوں پر کب تلک، دوسروں کا بویا ہُوا ، میں کاٹُوں کُھلے ماحول پہ وہ حَبس کو معموُر کرے سانس کی دھار سے زنجیرِ ہَوا، میں کاٹُوں چھاؤں تو ، اُس کو مظفؔر نہیں اچھّی لگتی ! کہتا مجھ سے ہے کہ، یہ پیڑ گھنا میں کاٹُوں

— مظفر وارثی