کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

سرد جذبے بجھے بجھے چہرے

سرد جذبے بجھے بجھے چہرے جسم زندہ ہیں مر گئے چہرے آج کے دور کی علامت ہیں فلسفی ذہن سوچتے چہرے سیل غم سے بھی صاف ہو نہ سکے گرد آلود ملگجے چہرے یخ زدہ سوچ کے دریچوں میں کس نے دیکھے ہیں کانپتے چہرے اک برس بھی ابھی نہیں گزرا کتنی جلدی بدل گئے چہرے میں نے اکثر خود اپنے چہرے پر دوسروں کے سجا لئے چہرے وہ تو نکلے بہت ہی بد صورت کیفؔ دیکھے تھے جو سجے چہرے

— کیف احمد صدیقی