کیف احمد صدیقی

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی

12 January 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں

سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں سائے راکھ بنے جاتے ہیں جیتے ہوئے درختوں میں آج کچھ ایسے شعلے بھڑکے بارش کے ہر قطرے سے دھوپ پناہیں مانگ رہی ہے بھیگے ہوئے درختوں میں خاموشی بھی خوف زدہ ہے آسیبی آوازوں سے سناٹے بھی کانپ رہے ہیں سہمے ہوئے درختوں میں تنہائی کی دلہن اپنی مانگ سجائے بیٹھی ہے ویرانی آباد ہوئی ہے اجڑے ہوئے درختوں میں آج تو سارے باغ میں خواب مرگ کا نشہ طاری ہے لیکن کوئی جاگ رہا ہے سوئے ہوئے درختوں میں کون مصیبت کے عام میں ساتھ کسی کا دیتا ہے چند پرندے چیخ رہے ہیں گرتے ہوئے درختوں میں

— کیف احمد صدیقی