وصی شاہ

زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)

27 November 2025

21سپیکرز
354لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے ہر ایک لب پہ ہے میری وفا کے افسانے ترے ستم کو ابھی لا زوال ہونا ہے بجا کہ خواب ہیں لیکن بہار کی رت میں یہ طے ہے اب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے تمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ہے ہماری روح پہ جب بھی عذاب اتریں گے تمہاری یاد کو اس دل کو ڈھال ہونا ہے کبھی تو روئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میں کبھی تو اس کی ہنسی کو زوال ہونا ہے ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں بس انتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پر محبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے زمانہ جس کے خم و پیچ میں الجھ جائے ہماری ذات کو ایسا سوال ہونا ہے وصیؔ یقین ہے مجھ کو وہ لوٹ آئے گا اسے بھی اپنے کئے کا ملال ہونا ہے

— وصی شاہ

ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی

ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی ہے تم سے بس یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی ترا ہر بار میرے خط کو پڑھنا اور رو دینا مرا ہر بار لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی کیا تھا ہم نے کیمپس کی ندی پر اک حسیں وعدہ بھلے ہم کو پڑے مرنا محبت مر نہیں سکتی پرانے عہد کو جب زندہ کرنے کا خیال آئے مجھے بس اتنا لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی وہ تیرا ہجر کی شب فون رکھنے سے ذرا پہلے بہت روتے ہوئے کہنا محبت مر نہیں سکتی گئے لمحات فرصت کے کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں وہ پہروں ہاتھ پر لکھنا محبت مر نہیں سکتی

— وصی شاہ