وصی شاہ

زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)

27 November 2025

21سپیکرز
354لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

کنگن

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو اور بیتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو میں ترے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی تیرے ہونٹوں کی میں حدت سے دہک سا جاتا رات کو جب بھی تو نیندوں کے سفر پر جاتی مرمریں ہاتھ کا اک تکیہ بنایا کرتی میں ترے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا تیری زلفوں کو ترے گال کو چوما کرتا جب بھی تو بند قبا کھولنے لگتی جاناں اپنی آنکھوں کو ترے حسن سے خیرہ کرتا مجھ کو بیتاب سا رکھتا تری چاہت کا نشہ میں تری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا ہوتا کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا

— وصی شاہ