سپیکرز
صباگل کا پیش کردہ کلام
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں تم مری آنکھ کے سمندر میں تم مری روح کے اجالوں میں پھول ہی پھول کھل اٹھے مجھ میں کون آیا مرے خیالوں میں میں نے جی بھر کے تجھ کو دیکھ لیا تجھ کو الجھا کے کچھ سوالوں میں میری خوشیوں کی کائنات بھی تو تو ہی دکھ درد کے حوالوں میں جب ترا دوستوں میں ذکر آئے ٹیس اٹھتی ہے دل کے چھالوں میں تم سے آباد ہے یہ تنہائی تم ہی روشن ہو گھر کے جالوں میں سانولی شام کی طرح ہے وہ وہ نہ گوروں میں ہے نہ کالوں میں کیا اسے یاد آ رہا ہوں وصیؔ رنگ ابھرے ہیں اس کے گالوں میں
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو اس کے سائے میں مرے خواب دہک اٹھیں گے میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر اس قدر برسو مری روح میں جل تھل کر دو جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہے اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے جل تھل کر دو تم چھپا لو مرا دل اوٹ میں اپنے دل کی اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چراؤ مجھ سے اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حل کر دو اپنے غم سے کہو ہر وقت مرے ساتھ رہے ایک احسان کرو اس کو مسلسل کر دو مجھ پہ چھا جاؤ کسی آگ کی صورت جاناں اور مری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کر دو