وصی شاہ

زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)

27 November 2025

21سپیکرز
354لسنرز

سپیکرز

صباگل کا پیش کردہ کلام

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں تم مری آنکھ کے سمندر میں تم مری روح کے اجالوں میں پھول ہی پھول کھل اٹھے مجھ میں کون آیا مرے خیالوں میں میں نے جی بھر کے تجھ کو دیکھ لیا تجھ کو الجھا کے کچھ سوالوں میں میری خوشیوں کی کائنات بھی تو تو ہی دکھ درد کے حوالوں میں جب ترا دوستوں میں ذکر آئے ٹیس اٹھتی ہے دل کے چھالوں میں تم سے آباد ہے یہ تنہائی تم ہی روشن ہو گھر کے جالوں میں سانولی شام کی طرح ہے وہ وہ نہ گوروں میں ہے نہ کالوں میں کیا اسے یاد آ رہا ہوں وصیؔ رنگ ابھرے ہیں اس کے گالوں میں

— وصی شاہ

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو اس کے سائے میں مرے خواب دہک اٹھیں گے میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر اس قدر برسو مری روح میں جل تھل کر دو جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہے اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے جل تھل کر دو تم چھپا لو مرا دل اوٹ میں اپنے دل کی اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چراؤ مجھ سے اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حل کر دو اپنے غم سے کہو ہر وقت مرے ساتھ رہے ایک احسان کرو اس کو مسلسل کر دو مجھ پہ چھا جاؤ کسی آگ کی صورت جاناں اور مری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کر دو

— وصی شاہ