وصی شاہ

زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)

27 November 2025

21سپیکرز
354لسنرز

سپیکرز

عروج فیاض کا پیش کردہ کلام

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہے ترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں نہ جانے ہو گیا ہوں اس قدر حساس میں کب سے کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں میں سارا دن بہت مصروف رہتا ہوں مگر جوں ہی قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہر اک مفلس کے ماتھے پر الم کی داستانیں ہیں کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں بڑے لوگوں کے اونچے بد نما اور سرد محلوں کو غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ترے کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہے مگر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں زاروں موسموں کی حکمرانی ہے مرے دل پر وصیؔ میں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

— وصی شاہ