وصی شاہ

زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)

27 November 2025

21سپیکرز
354لسنرز

سپیکرز

اسمارامہر کا پیش کردہ کلام

جب غم میری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا تو کہاں تھا

جب غم میری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا تو کہاں تھا جب چاروں طرف درد کے دریا کا سماں تھا تو کہاں تھا اب آیا ہے جب ڈھل گئے ہیں سبھی موسم مرے ہمدم جب تیرے لیے میرا ہر احساس جواں تھا تو کہاں تھا اب صرف خموشی ہے مقدرکا ستارہ، مرے یارا جب لب پہ فقط تیرا فقط تیرا بیاں تھا تو کہاں تھا اب آیا ہے جب کام دکھا بھی گیاساون، مرے ساجن جب چار سو مرے لیے خوشیوں کا سماں تھا تو کہاں تھا

— وصی شاہ

کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر

کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر کتنا ماتم ہوا کتنے آنسو بہے چاند کو کیا خبر مدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں چاہ میں اس کی پیروں میں ہیں آبلے چاند کو کیا خبر وہ جو نکلا نہیں تو بھٹکتے رہے ہیں مسافر کئی اور لٹتے رہے ہیں کئی قافلے چاند کو کیا خبر اس کو دعویٰ بہت میٹھے پن کا وصیؔ چاندنی سے کہو اس کی کرنوں سے کتنے ہی گھر جل گئے چاند کو کیا خبر

— وصی شاہ