سپیکرز
اسمارامہر کا پیش کردہ کلام
جب غم میری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا تو کہاں تھا
جب غم میری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا تو کہاں تھا جب چاروں طرف درد کے دریا کا سماں تھا تو کہاں تھا اب آیا ہے جب ڈھل گئے ہیں سبھی موسم مرے ہمدم جب تیرے لیے میرا ہر احساس جواں تھا تو کہاں تھا اب صرف خموشی ہے مقدرکا ستارہ، مرے یارا جب لب پہ فقط تیرا فقط تیرا بیاں تھا تو کہاں تھا اب آیا ہے جب کام دکھا بھی گیاساون، مرے ساجن جب چار سو مرے لیے خوشیوں کا سماں تھا تو کہاں تھا
کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر
کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر کتنا ماتم ہوا کتنے آنسو بہے چاند کو کیا خبر مدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں چاہ میں اس کی پیروں میں ہیں آبلے چاند کو کیا خبر وہ جو نکلا نہیں تو بھٹکتے رہے ہیں مسافر کئی اور لٹتے رہے ہیں کئی قافلے چاند کو کیا خبر اس کو دعویٰ بہت میٹھے پن کا وصیؔ چاندنی سے کہو اس کی کرنوں سے کتنے ہی گھر جل گئے چاند کو کیا خبر