وصی شاہ

زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)

27 November 2025

21سپیکرز
354لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے

ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے بکھر گئے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے میں مسکراتا ہوا آئنے میں ابھروں گا وہ رو پڑے گی اچانک سنگھار کرتے ہوئے وہ کہہ رہی تھی سمندر نہیں ہیں آنکھیں ہیں میں ان میں ڈوب گیا اعتبار کرتے ہوئے بھنور جو مجھ میں پڑے ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے

— وصی شاہ

دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے

دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے تو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ دعا وہ کرتے کہ ہم آسماں ہلا دیتے ہمیں زعم رہا کہ اب وہ پکاریں گے انہیں یہ ضد تھی کہ ہر بار ہم صدا دیں گے وہ تیرا غم تھا کہ تاثیر میرے لہجے کی کہ جس کو حال سناتے وہ رلا دیتے تمہیں بھلانا ہی اول تو دسترس میں نہیں جو اختیار بھی ہوتا تو کیا بھلا دیتے تمہاری یاد میں کوئی جواب ہی نہ دیا میرے خیال ہی آنسو رہے صدا دے کر ہم اپنے بچوں سے کیسے کہیں کہ یہ گڑیا ہمارے بس میں جو ہوتی تو دلا دیتے سماعتوں کو میں تا عمر کوستا سیدؔ وہ کچھ نہ کہتے ہونٹ تو ہلا دیتے تمہیں بھلانا ہی اول تو دسترس میں نہیں جو اختیار بھی ہوتا تو کیا بھلا دیتے

— وصی شاہ