سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے بکھر گئے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے میں مسکراتا ہوا آئنے میں ابھروں گا وہ رو پڑے گی اچانک سنگھار کرتے ہوئے وہ کہہ رہی تھی سمندر نہیں ہیں آنکھیں ہیں میں ان میں ڈوب گیا اعتبار کرتے ہوئے بھنور جو مجھ میں پڑے ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے
تم میرے درد بھی، غم بھی، مرے آلام بھی تم
تم میرے درد بھی، غم بھی، مرے آلام بھی تم تم میرا چین ہو جاناں، میرا آرام بھی تم کامیابی کو نہیں ہم نے تمہیں چاہا ہے، ہم تمہارے ہیں بھلے ہو گئے ناکام بھی تم میں مسیحا ہوں اگر ، میرا وظیفہ تم ہو، میں ہوں مجرم تو میری جان میرا الزام بھی تم مختلف حیلوں ، بہانوں سے مجھے سوچتے ہو، ایک دن کھل کے پکارو گے میرا نام بھی تم رات دن تم کو، فقط تم کو مجھے سوچنا ہے، میری فرصت بھی تمہی اور میرا کام بھی تم جس سے روشن میرا آنگن ہے تمہی ہو وہ چراغ، سچ تو یہ ہے کہ تمہی گھر ہو در و بام بھی تم