سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
ارتاش سید
اسمارامہر
انتظار حسین
انیس فاروقی
ایم سعید
باسط میر
حسن شبیر
حماد مہر
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
سجاد رضا
سجاد علی
سید جینٹلمین
صباگل
عروج فیاض
مرزا جواد
مسافر
نگاہ بسمل
واجد علی
وصی شاہ
مرزا جواد کا پیش کردہ کلام
تم سے پوچھا نہ گیا ھم سے بتایا نہ گیا
تم سے پوچھا نہ گیا ھم سے بتایا نہ گیا پھر بھی جو دل میں چھپا تھا وہ چھپایا نہ گیا عشق کی گلیوں میں اک عمر گزاری لیکن اب یہ لگتا ھے میں اس شہر میں آیا نہ گیا ورنہ کس کس نے نہیں چاہا ھمارا ھونا دل ترے بعد کسی سے بھی لگایا نہ گیا اس نے اک بار نکالا تھا مجھے محفل سے پھر مرے پاؤں بھی پکڑے میں دوبارہ نہ گیا عمر بھر ساتھ رھے پھول کی خوشبو جیسے لفظ تو بھول گئے روح سے لہجہ نہ گیا میں نے اک بار کبھی پانی پلایا تھا اسے چھت کبھی چھوڑ کے پھر میری پرندہ نہ گیا جسکو دیوانہ کہا جسکا اڑاتے تھے مذاق ھوش والوں کو مبارک ھو وہ دیوانہ--- گیا خامیاں اس نے بھی مجنوں میں نکالی ہیں وصی جس تلک عشق تو کیا عشق کا سایہ نہ گیا