سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
ارتاش سید
اسمارامہر
انتظار حسین
انیس فاروقی
ایم سعید
باسط میر
حسن شبیر
حماد مہر
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
سجاد رضا
سجاد علی
سید جینٹلمین
صباگل
عروج فیاض
مرزا جواد
مسافر
نگاہ بسمل
واجد علی
وصی شاہ
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے
اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے زندگی درد کی سہیلی ہے اُٹھنے جوگا نہیں ہے تیرے بعد دل نے تکلیف ایسی جھیلی ہے شام سے اس لیے محبت ہے تیری یادوں کے ساتھ کھیلی ہے مُضطرب کیوں نہ ہو شبِ ہجراں درد کی گود میں اکیلی ہے کوئی بتلائے خواب کا مفہوم رات ہے، سانپ ہے، چنبیلی ہے ان لکیروں میں تُو نہیں تو وصی کتنی ویران یہ ہتھیلی ہے
درد کی دل پہ حکومت تھی، کہاں تھا اُس وقت
درد کی دل پہ حکومت تھی، کہاں تھا اُس وقت جب مجھے تیری ضرورت تھی، کہاں تھا اُس وقت موت کے سُکھ میں چلا آیا مجھے دیکھنے کو زندہ رہنے کی مصیبت تھی کہاں تھا اُس وقت دل کے دریاؤں میں اب ریت ہے صحراؤں کی جب مجھے تجھ سے محبت تھی، کہاں تھا اُس وقت