وصی شاہ

زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)

27 November 2025

21سپیکرز
354لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے

اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے زندگی درد کی سہیلی ہے اُٹھنے جوگا نہیں ہے تیرے بعد دل نے تکلیف ایسی جھیلی ہے شام سے اس لیے محبت ہے تیری یادوں کے ساتھ کھیلی ہے مُضطرب کیوں نہ ہو شبِ ہجراں درد کی گود میں اکیلی ہے کوئی بتلائے خواب کا مفہوم رات ہے، سانپ ہے، چنبیلی ہے ان لکیروں میں تُو نہیں تو وصی کتنی ویران یہ ہتھیلی ہے

— وصی شاہ

درد کی دل پہ حکومت تھی، کہاں تھا اُس وقت

درد کی دل پہ حکومت تھی، کہاں تھا اُس وقت جب مجھے تیری ضرورت تھی، کہاں تھا اُس وقت موت کے سُکھ میں چلا آیا مجھے دیکھنے کو زندہ رہنے کی مصیبت تھی کہاں تھا اُس وقت دل کے دریاؤں میں اب ریت ہے صحراؤں کی جب مجھے تجھ سے محبت تھی، کہاں تھا اُس وقت

— وصی شاہ