وصی شاہ

زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)

27 November 2025

21سپیکرز
354لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

ایمان

وقت چلتا ہی رہا کرتا ہے رُکتا تو نہیں لوگ ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں پھر ملتے ہیں راستے ہاتھ نہیں آتے کبھی اور کبھی پیروں سے آآ کے لپٹ جاتے ہیں یونہی اک آس سی رہتی ہے ہمیں ممکن ہے انہی رستوں پہ اچانک یونہی چلتے چلتے کل نہیں تو آج، نہیں آج تو کل دل کی دھرتی پہ کسی روز کھلو گے تم بھی دل یہ کہتا ہے کہ اک روز ملو گے تم بھی

— وصی شاہ

دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے

دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت ہم نے اس کام کو بھی کل پہ اٹھا رکھا ہے روٹھ جاتے ہو تو کچھ اور حسیں لگتے ہو ہم نے یہ سوچ کے ہی تم کو خفا رکھا ہے تم جسے روتا ہوا چھوڑ گئے تھے اک دن ہم نے اس شام کو سینے سے لگا رکھا ہے چین لینے نہیں دیتا یہ کسی طور مجھے تیری یادوں نے جو طوفان اٹھا رکھا ہے جانے والے نے کہا تھا کہ وہ لوٹے گا ضرور اک اسی آس پہ دروازہ کھلا رکھا ہے تیرے جانے سے جو اک دھول اٹھی تھی غم کی ہم نے اس دھول کو آنکھوں میں بسا رکھا ہے مجھ کو کل شام سے وہ یاد بہت آنے لگا دل نے مدت سے جو اک شخص بھلا رکھا ہے آخری بار جو آیا تھا مرے نام وصیؔ میں نے اس خط کو کلیجے سے لگا رکھا ہے

— وصی شاہ