وصی شاہ

زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)

27 November 2025

21سپیکرز
354لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو

جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو تو ایک شب بھی نا سو سکو گے کے لاکھ چاہو نا ہنس سکو گے ہزار چاہو نا رو سکو گے کے خواب کیا ہیں عذاب ہیں یہ میرے دکھوں کی کتاب ہیں یہ رفاقتیں ان میں چھوٹتی ہیں محبتیں ان میں روٹھتی ہیں اذیتیں ان میں پھوٹتی ہیں انہی کے ڈر سے خزاں ہیں جذبے انہی سے شاخیں سی ٹوٹتی ہیں غموں کی بندش ہیں خواب میرے دکھوں کی بارش ہیں خواب میرے ابل رہا ہے دکھوں کا لاوا رہیں آتَش ہیں خواب میرے خیال سارے جھلس گئے ہیں سلگتی خواہش ہیں خواب میرے اکھڑتی سانسیں ہیں زندگی کی لہو کی سازش ہیں خواب میرے جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو تو ایک شب بھی نا سو سکو گے

— وصی شاہ

یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے

یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے گلی گلی میں جو آوارہ پھر رہا ہوتا جہان بھر میں وہی نیک نام تم سے ہے کہاں بساط جہاں اور میں کمسن و ناداں یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے جہاں جہاں ہے مری دشمنی سبب میں ہوں جہاں جہاں ہے مرا احترام تم سے ہے اے میری ماں مجھے ہر پل رہے تمہارا خیال تم ہی سے صبح مری میری شام تم سے ہے یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے

— وصی شاہ