سپیکرز
سجاد رضا کا پیش کردہ کلام
جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو
جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو تو ایک شب بھی نا سو سکو گے کے لاکھ چاہو نا ہنس سکو گے ہزار چاہو نا رو سکو گے کے خواب کیا ہیں عذاب ہیں یہ میرے دکھوں کی کتاب ہیں یہ رفاقتیں ان میں چھوٹتی ہیں محبتیں ان میں روٹھتی ہیں اذیتیں ان میں پھوٹتی ہیں انہی کے ڈر سے خزاں ہیں جذبے انہی سے شاخیں سی ٹوٹتی ہیں غموں کی بندش ہیں خواب میرے دکھوں کی بارش ہیں خواب میرے ابل رہا ہے دکھوں کا لاوا رہیں آتَش ہیں خواب میرے خیال سارے جھلس گئے ہیں سلگتی خواہش ہیں خواب میرے اکھڑتی سانسیں ہیں زندگی کی لہو کی سازش ہیں خواب میرے جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو تو ایک شب بھی نا سو سکو گے
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے گلی گلی میں جو آوارہ پھر رہا ہوتا جہان بھر میں وہی نیک نام تم سے ہے کہاں بساط جہاں اور میں کمسن و ناداں یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے جہاں جہاں ہے مری دشمنی سبب میں ہوں جہاں جہاں ہے مرا احترام تم سے ہے اے میری ماں مجھے ہر پل رہے تمہارا خیال تم ہی سے صبح مری میری شام تم سے ہے یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے