سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی مانگے تو اگر جان بھی ہنس کے تجھے دے دیں تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی آئے کوئی آ کر یہ ترے درد سنبھالے ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی معلوم ہمیں بھی ہیں بہت سے ترے قصے پر بات تری ہم سے اچھالی نہیں جاتی ہم راہ ترے پھول کھلاتی تھی جو دل میں اب شام وہی درد سے خالی نہیں جاتی ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا جس کے ہونے سے مری سانس چلا کرتی تھی کس طرح اس کے بغیر اپنا گزارہ ہوگا عشق کرنا ہے تو دن رات اسے سوچنا ہے اور کچھ ذہن میں آیا تو خسارہ ہوگا کون روتا ہے یہاں رات کے سناٹوں میں میرے جیسا ہی کوئی ہجر کا مارا ہوگا جو مری روح میں بادل سے گرجتے ہیں وصیؔ اس نے سینے میں کوئی درد اتارا ہوگا کام مشکل ہے مگر جیت ہی لوں گا اس کو میرے مولا کا وصیؔ جوں ہی اشارہ ہوگا
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے تو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ دعا وہ کرتے کہ ہم آسماں ہلا دیتے ہمیں زعم رہا کہ اب وہ پکاریں گے انہیں یہ ضد تھی کہ ہر بار ہم صدا دیں گے وہ تیرا غم تھا کہ تاثیر میرے لہجے کی کہ جس کو حال سناتے وہ رلا دیتے تمہیں بھلانا ہی اول تو دسترس میں نہیں جو اختیار بھی ہوتا تو کیا بھلا دیتے تمہاری یاد میں کوئی جواب ہی نہ دیا میرے خیال ہی آنسو رہے صدا دے کر ہم اپنے بچوں سے کیسے کہیں کہ یہ گڑیا ہمارے بس میں جو ہوتی تو دلا دیتے سماعتوں کو میں تا عمر کوستا سیدؔ وہ کچھ نہ کہتے ہونٹ تو ہلا دیتے تمہیں بھلانا ہی اول تو دسترس میں نہیں جو اختیار بھی ہوتا تو کیا بھلا دیتے