سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
انتظار حسین
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
رابعہ
راجا اکرام قمر
سید جینٹلمین
صباگل
فخر
قوس قزح
مرزا جواد
ملک علی
نایاب
ندیم بخاری
واجد علی
وقاراحسن
ملک علی کا پیش کردہ کلام
میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا
میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا چھلکے ہوئے تھے جام پریشاں تھی زلف یار کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا دنیائے حادثات ہے اک دردناک گیت دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا ساغرؔ وہ کہہ رہے تھے کہ پی لیجیے حضور ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا