عبدالحمیدعدم

زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)

23 November 2025

15سپیکرز
160لسنرز

سپیکرز

ملک علی کا پیش کردہ کلام

میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا

میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا چھلکے ہوئے تھے جام پریشاں تھی زلف یار کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا دنیائے حادثات ہے اک دردناک گیت دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا ساغرؔ وہ کہہ رہے تھے کہ پی لیجیے حضور ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا

— ساغرصدیقی