عبدالحمیدعدم

زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)

23 November 2025

15سپیکرز
160لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں

خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں اے گردش ایام میں کچھ سوچ رہا ہوں ساقی تجھے اک تھوڑی سی تکلیف تو ہوگی ساغر کو ذرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں پہلے بڑی رغبت تھی ترے نام سے مجھ کو اب سن کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں ادراک ابھی پورا تعاون نہیں کرتا دے بادۂ گلفام میں کچھ سوچ رہا ہوں حل کچھ تو نکل آئے گا حالات کی ضد کا اے کثرت آلام میں کچھ سوچ رہا ہوں پھر آج عدمؔ شام سے غمگیں ہے طبیعت پھر آج سر شام میں کچھ سوچ رہا ہوں

— عبدالحمیدعدم

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا پھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا ساغر شکن ہے شیخ بلا نوش کی نظر شیشے کو زیر دامن رنگیں چھپا کے لا کیوں جا رہی ہے روٹھ کے رنگینیِ بہار جا ایک مرتبہ اسے پھر ورغلا کے لا دیکھی نہیں ہے تو نے کبھی زندگی کی لہر اچھا تو جا عدمؔ کی صراحی اٹھا کے لا

— عبدالحمیدعدم