سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں
خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں اے گردش ایام میں کچھ سوچ رہا ہوں ساقی تجھے اک تھوڑی سی تکلیف تو ہوگی ساغر کو ذرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں پہلے بڑی رغبت تھی ترے نام سے مجھ کو اب سن کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں ادراک ابھی پورا تعاون نہیں کرتا دے بادۂ گلفام میں کچھ سوچ رہا ہوں حل کچھ تو نکل آئے گا حالات کی ضد کا اے کثرت آلام میں کچھ سوچ رہا ہوں پھر آج عدمؔ شام سے غمگیں ہے طبیعت پھر آج سر شام میں کچھ سوچ رہا ہوں
لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا
لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا پھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا ساغر شکن ہے شیخ بلا نوش کی نظر شیشے کو زیر دامن رنگیں چھپا کے لا کیوں جا رہی ہے روٹھ کے رنگینیِ بہار جا ایک مرتبہ اسے پھر ورغلا کے لا دیکھی نہیں ہے تو نے کبھی زندگی کی لہر اچھا تو جا عدمؔ کی صراحی اٹھا کے لا