سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں آدمی بے نظیر ہوتے ہیں دیکھنے والا اک نہیں ملتا آنکھ والے کثیر ہوتے ہیں جن کو دولت حقیر لگتی ہے اف! وہ کتنے امیر ہوتے ہیں جن کو قدرت نے حسن بخشا ہو قدرتاً کچھ شریر ہوتے ہیں زندگی کے حسین ترکش میں کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں پھول دامن میں چند رکھ لیجے راستے میں فقیر ہوتے ہیں ہے خوشی بھی عجیب شے لیکن غم بڑے دل پذیر ہوتے ہیں اے عدمؔ احتیاط لوگوں سے لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں
ہنس کے بولا کرو بلایا کرو
ہنس کے بولا کرو بلایا کرو آپ کا گھر ہے آیا جایا کرو مسکراہٹ ہے حسن کا زیور روپ بڑھتا ہے مسکرایا کرو حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہو جھوٹی قسمیں ضرور کھایا کرو حکم کرنا بھی اک سخاوت ہے ہم کو خدمت کوئی بتایا کرو بات کرنا بھی بادشاہت ہے بات کرنا نہ بھول جایا کرو تاکہ دنیا کی دل کشی نہ گھٹے نت نئے پیرہن میں آیا کرو ہم حسد سے عدمؔ نہیں کہتے اس گلی میں بہت نہ جایا کرو
رقص کرتا ہوں جام پیتا ہوں
رقص کرتا ہوں جام پیتا ہوں عام ملتی ہے عام پیتا ہوں جھوٹ میں نے کبھی نہیں بولا زاہدان کرام پیتا ہوں رخ ہے پر نور تو تعجب کیا بادۂ لالہ فام پیتا ہوں اتنی تیزی بھی کیا پلانے میں آبگینے کو تھام پیتا ہوں کام بھی اک نماز ہے میری ختم کرتے ہی کام پیتا ہوں تیرے ہاتھوں سے کس کو ملتی ہے؟ میرے ماہ تمام پیتا ہوں زندگی کا سفر ہی ایسا ہے دم بدم گام گام پیتا ہوں مجھ کو مے سے بڑی محبت ہے میں بصد احترام پیتا ہوں مے مرے ہونٹ چوم لیتی ہے لے کے جب تیرا نام پیتا ہوں شیخ و مفتی عدمؔ جب آ جائیں بن کے ان کا امام پیتا ہوں