سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
انتظار حسین
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
رابعہ
راجا اکرام قمر
سید جینٹلمین
صباگل
فخر
قوس قزح
مرزا جواد
ملک علی
نایاب
ندیم بخاری
واجد علی
وقاراحسن
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے
جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے میرا خیال ہے کہ وہ انسان بن گئے ہم حشر میں گئےتھے مگر کچھ نہ پوچھئے وہ جان بوجھ کر وہاں انجان بن گئے ہنستے ہیں ہم کو دیکھ کے ارباب_ آگہی ہم آپ کے مزاج کی پہچان بن گئے منجدھار تک پہنچنا تو ہمّت کی بات تھی ساحل کے آس پاس ہی طوفان بن گئے انسانیت کی بات تو اتنی ہے شیخ جی بد قسمتی سے آپ بھی انسان بن گئے کانٹے بہت تھے دامن_ فطرت میں اے عدم کچھ پھول اور کچھ میرے ارمان بن گئے
دوستوں کے نام یاد آنے لگے
دوستوں کے نام یاد آنے لگے تلخ و شیریں جام یاد آنے لگے وقت جوں جوں رائگاں ہوتا گیا زندگی کو کام یاد آنے لگے خوبصورت تہمتیں چبھنے لگیں دل نشیں الزام یاد آنے لگے پھر خیال آتے ہی شامِ ہجر کا مرمریں اجسام یاد آنے لگے بھولنا چاہا تھا ان کو اے عدم پھر وہ صبح و شام یاد آنے لگے