عبدالحمیدعدم

زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)

23 November 2025

15سپیکرز
160لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے

جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے میرا خیال ہے کہ وہ انسان بن گئے ہم حشر میں گئےتھے مگر کچھ نہ پوچھئے وہ جان بوجھ کر وہاں انجان بن گئے ہنستے ہیں ہم کو دیکھ کے ارباب_ آگہی ہم آپ کے مزاج کی پہچان بن گئے منجدھار تک پہنچنا تو ہمّت کی بات تھی ساحل کے آس پاس ہی طوفان بن گئے انسانیت کی بات تو اتنی ہے شیخ جی بد قسمتی سے آپ بھی انسان بن گئے کانٹے بہت تھے دامن_ فطرت میں اے عدم کچھ پھول اور کچھ میرے ارمان بن گئے

— عبدالحمیدعدم

دوستوں کے نام یاد آنے لگے

دوستوں کے نام یاد آنے لگے تلخ و شیریں جام یاد آنے لگے وقت جوں جوں رائگاں ہوتا گیا زندگی کو کام یاد آنے لگے خوبصورت تہمتیں چبھنے لگیں دل نشیں الزام یاد آنے لگے پھر خیال آتے ہی شامِ ہجر کا مرمریں اجسام یاد آنے لگے بھولنا چاہا تھا ان کو اے عدم پھر وہ صبح و شام یاد آنے لگے

— عبدالحمیدعدم