سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میں
مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میں ہنس کر فریب چشم کرم کھا گیا ہوں میں بس انتہا ہے چھوڑیئے بس رہنے دیجئے خود اپنے اعتماد سے شرما گیا ہوں میں ساقی ذرا نگاہ ملا کر تو دیکھنا کمبخت ہوش میں تو نہیں آ گیا ہوں میں شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں کیا اب حساب بھی تو مرا لے گا حشر میں کیا یہ عتاب کم ہے یہاں آ گیا ہوں میں میں عشق ہوں مرا بھلا کیا کام دار سے وہ شرع تھی جسے وہاں لٹکا گیا ہوں میں نکلا تھا مے کدے سے کہ اب گھر چلوں عدمؔ گھبرا کے سوئے مے کدہ پھر آ گیا ہوں میں
جنوں بیمار ہے، آہستہ بولو
جنوں بیمار ہے، آہستہ بولو خِرد لاچار ہے، آہستہ بولو زمانے کی سماعت جاگتی ہے عدو بیدار ہے، آہستہ بولو کوئی سن پائے گا تو کیا کہے گا کھلا بازار ہے، آہستہ بولو زیادہ ہاؤ ہُو کا اس جہاں میں نتیجہ دار ہے، آہستہ بولو عدم فریاد اور وہ بھی خدا سے بڑا دربار ہے، آہستہ بولو
خرد کے دام میں جو آ گئے ہیں
خرد کے دام میں جو آ گئے ہیں وہ دانش مند دھوکا کھا گئے ہیں ابھی تو فصل گل کی ابتدا تھی ابھی سے پھول کیوں مرجھا گئے ہیں کچھ ایسے آپ نے پھیری ہیں آنکھیں زمانے کے ستم شرما گئے ہیں تری آنکھوں کی فرمائش پہ انساں فریب زندگی بھی کھا گئے ہیں عدمؔ سے زندگی روٹھی ہوئی تھی خدا کا شکر ہے آپ آ گئے ہیں