عبدالحمیدعدم

زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)

23 November 2025

15سپیکرز
160لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے

اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے دل کی آہٹ سے تری آواز آتی ہے مجھے جھاڑ کر گرد غم ہستی کو اڑ جاؤں گا میں بے خبر ایسی بھی اک پرواز آتی ہے مجھے یا سماعت کا بھرم ہے یا کسی نغمے کی گونج ایک پہچانی ہوئی آواز آتی ہے مجھے کس نے کھولا ہے ہوا میں گیسوؤں کو ناز سے نرم رو برسات کی آواز آتی ہے مجھے اس کی نازک انگلیوں کو دیکھ کر اکثر عدمؔ ایک ہلکی سی صدائے ساز آتی ہے مجھے

— عبدالحمیدعدم

ایک نامقبول قربانی ہوں میں

ایک نامقبول قربانی ہوں میں سرپھری الفت میں لا ثانی ہوں میں میں چلا جاتا ہوں واں تکلیف سے وہ سمجھتے ہیں کہ لا ثانی ہوں میں کان دھرتے ہی نہیں وہ بات پر کب سے مصروف ثنا خوانی ہوں میں زندگی ہے اک کرائے کی خوشی سوکھتے تالاب کا پانی ہوں میں مجھ سے بڑھ کر کیا کوئی ہوگا امیر قیمتی ورثے کی ارزانی ہوں میں چاندنی راتوں میں یاروں کے بغیر چاندنی راتوں کی ویرانی ہوں میں کہنا سننا ان سے مجھ کو کچھ نہیں صرف اک تمہید طولانی ہوں میں مجھ کو پچھتانا نہیں آتا عدمؔ ایک دولت مند نادانی ہوں میں

— عبدالحمیدعدم