سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے
اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے دل کی آہٹ سے تری آواز آتی ہے مجھے جھاڑ کر گرد غم ہستی کو اڑ جاؤں گا میں بے خبر ایسی بھی اک پرواز آتی ہے مجھے یا سماعت کا بھرم ہے یا کسی نغمے کی گونج ایک پہچانی ہوئی آواز آتی ہے مجھے کس نے کھولا ہے ہوا میں گیسوؤں کو ناز سے نرم رو برسات کی آواز آتی ہے مجھے اس کی نازک انگلیوں کو دیکھ کر اکثر عدمؔ ایک ہلکی سی صدائے ساز آتی ہے مجھے
ایک نامقبول قربانی ہوں میں
ایک نامقبول قربانی ہوں میں سرپھری الفت میں لا ثانی ہوں میں میں چلا جاتا ہوں واں تکلیف سے وہ سمجھتے ہیں کہ لا ثانی ہوں میں کان دھرتے ہی نہیں وہ بات پر کب سے مصروف ثنا خوانی ہوں میں زندگی ہے اک کرائے کی خوشی سوکھتے تالاب کا پانی ہوں میں مجھ سے بڑھ کر کیا کوئی ہوگا امیر قیمتی ورثے کی ارزانی ہوں میں چاندنی راتوں میں یاروں کے بغیر چاندنی راتوں کی ویرانی ہوں میں کہنا سننا ان سے مجھ کو کچھ نہیں صرف اک تمہید طولانی ہوں میں مجھ کو پچھتانا نہیں آتا عدمؔ ایک دولت مند نادانی ہوں میں