سپیکرز
واجد علی کا پیش کردہ کلام
میں حادثوں سے جام لڑاتا چلا گیا
میں حادثوں سے جام لڑاتا چلا گیا ہنستا ہنساتا ،پیتا پلاتا ، چلا گیا نقش و نگار زیست بنانے کا شوق تھا نقش و نگار زیست بناتا چلا گیا اتنے ہی اختلاف ابھرتے چلے گئے جتنے تعلقات بڑھاتا چلا گیا طوفاں کے رحم پر تھی فقیروں کی کشتیاں طوفاں ہی کشتیوں کو چلاتا چلا گیا دنیا مری خوشی کو بہت گھورتی رہی میں زندگی کا ساز بجاتا چلا گیا وہ رفتہ رفتہ جام پلاتے چلے گئے میں رفتہ رفتہ ہوش میں آتا چلا گیا ہر مے کدے سے ایک عقیدت تھی اے عدم ہر مہ جبیں سے آنکھ ملتا چلا گیا
جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے
جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے میرا خیال ہے کہ وہ انسان بن گئے ہم حشر میں گئےتھے مگر کچھ نہ پوچھئے وہ جان بوجھ کر وہاں انجان بن گئے ہنستے ہیں ہم کو دیکھ کے ارباب_ آگہی ہم آپ کے مزاج کی پہچان بن گئے منجدھار تک پہنچنا تو ہمّت کی بات تھی ساحل کے آس پاس ہی طوفان بن گئے انسانیت کی بات تو اتنی ہے شیخ جی بد قسمتی سے آپ بھی انسان بن گئے کانٹے بہت تھے دامن_ فطرت میں اے عدم کچھ پھول اور کچھ میرے ارمان بن گئے