عبدالحمیدعدم

زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)

23 November 2025

15سپیکرز
160لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں

دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں زخم بھر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں آپ کا شہر اگر بار سمجھتا ہے ہمیں کوچ کر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں آپ کے جور کا جب ذکر چھڑا محشر میں ہم مکر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں رو کے جینے میں بھلا کون سی شیرینی ہے ہنس کے مر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں نکل آئے ہیں عدمؔ سے تو جھجھکنا کیسا در بدر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں

— عبدالحمیدعدم

ہلکا ہلکا سرور ہے ساقی

ہلکا ہلکا سرور ہے ساقی بات کوئی ضرور ہے ساقی تیری آنکھوں کو کر دیا سجدہ میرا پہلا قصور ہے ساقی تیرے رخ پر ہے یہ پریشانی اک اندھیرے میں نور ہے ساقی تیری آنکھیں کسی کو کیا دیں گی اپنا اپنا سرور ہے ساقی پینے والوں کو بھی نہیں معلوم مے کدہ کتنی دور ہے ساقی

— عبدالحمیدعدم

مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے

مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے​ نگاہ سے بھی بدن پر نشان پڑتا ہے​ حرم کا عزم پنپتا نظر نہیں اتا​ کہ راستے میں صنم کا مکان پڑتا ہے​ فقیہ شہر کو جب کوئی مشغلہ نہ ملے​ تو نیک بخت گلے میرے آن پڑتا ہے​ ہمیں خبر ہے حصول مراد سے پہلے​ خراب ہونا بھی اے مہربان پڑتا ہے​ عدم نشیمن دل بدگمان نہ ہوجاے​ نہ جانے ، کب کسی بجلی کا دھیان پڑتا ہے​

— عبدالحمیدعدم