سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں زخم بھر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں آپ کا شہر اگر بار سمجھتا ہے ہمیں کوچ کر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں آپ کے جور کا جب ذکر چھڑا محشر میں ہم مکر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں رو کے جینے میں بھلا کون سی شیرینی ہے ہنس کے مر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں نکل آئے ہیں عدمؔ سے تو جھجھکنا کیسا در بدر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
ہلکا ہلکا سرور ہے ساقی
ہلکا ہلکا سرور ہے ساقی بات کوئی ضرور ہے ساقی تیری آنکھوں کو کر دیا سجدہ میرا پہلا قصور ہے ساقی تیرے رخ پر ہے یہ پریشانی اک اندھیرے میں نور ہے ساقی تیری آنکھیں کسی کو کیا دیں گی اپنا اپنا سرور ہے ساقی پینے والوں کو بھی نہیں معلوم مے کدہ کتنی دور ہے ساقی
مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے
مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے نگاہ سے بھی بدن پر نشان پڑتا ہے حرم کا عزم پنپتا نظر نہیں اتا کہ راستے میں صنم کا مکان پڑتا ہے فقیہ شہر کو جب کوئی مشغلہ نہ ملے تو نیک بخت گلے میرے آن پڑتا ہے ہمیں خبر ہے حصول مراد سے پہلے خراب ہونا بھی اے مہربان پڑتا ہے عدم نشیمن دل بدگمان نہ ہوجاے نہ جانے ، کب کسی بجلی کا دھیان پڑتا ہے