سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
اِس کو کہتے ھیں اچانک ھوش میں آنے کا نام
اِس کو کہتے ھیں اچانک ھوش میں آنے کا نام رکھ دیا دانِشکَدہ، رِندوں نے مَیخانے کا نام حُور ھــــے، رعنائیِ نسواں کا اک نقلی لِباس خُلد ھے، زاھِد کے دانِستَـه بہک جانے کا نام آپ پر بھی وار ھو دل کا، تو پُوچھیں آپ سے عِشـــق بیماری کا غلبه ھیکه افسانے کا نام بـے رُخی کیا ھـــے؟ لگاوٹ تیز کرنے کا عَمل دِلبری کیا ھـــــے؟ مُکمل طوق پہنانے کا نام زندگی ھے، دُوسروں کـے حُکم پر مرنے کا جَشن موت ھے، اپنی رضا مندی سـے مرجانے کا نام آگہی کیا ھــے؟ مُسَلسَل خُـود فَریبی کا چَلن روشنی کیا ھـے؟ فریبِ مُستقل کھانے کا نام ھیں عَدمؔ کــے ذِکر پر، کیوں آپ اِتنے پُر غَضَب شَمـــــع کے ھَمراہ، آ جاتا ھے پَروانے کا نام
ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا
ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا ہم اس کے ہو گئے ہمیں جسکا بنا دیا تقدیر نے، فلک نے،محبت نے عشق نے جس نے بھی چاہا میرا تماشہ بنا دیا ویرانیاں سمیٹ کر سارے جہان کی جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا اب تم مرے بنو نہ بنو تم کو ہے اختیار تقدیر نے تو مجھ کو تماشہ بنا دیا ہوتا خدا کا عشق تو بن جاتا اور کچھ بندے کے عشق نے مجھے بندہ بنا دیا دنیا تیرے وجود کو کرتی رہی تلاش ہم نے تیرے خیال کو یزداں بنا دیا سرمہ سمجھ کہ آنکھ میں دی غیر کو جگہ آنسو سمجھ کہ آنکھ سے ہم کو گرا دیا
کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ
کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ ہم بھی نہ ڈوب جائیں کہیں نا خدا کے ساتھ دل کی طلب پڑی ہے تو آیا ہے یاد اب وہ تو چلا گیا تھا کسی دل ربا کے ساتھ جب سے چلی ہے آدم و یزداں کی داستاں ہر با وفا کا ربط ہے اک بے وفا کے ساتھ مہمان میزباں ہی کو بہکا کے لے اڑا خوشبوئے گل بھی گھوم رہی ہے صبا کے ساتھ پیر مغاں سے ہم کو کوئی بیر تو نہیں تھوڑا سا اختلاف ہے مرد خدا کے ساتھ شیخ اور بہشت کتنے تعجب کی بات ہے یارب یہ ظلم خلد کی آب و ہوا کے ساتھ پڑھتا نماز میں بھی ہوں پر اتفاق سے اٹھتا ہوں نصف رات کو دل کی صدا کے ساتھ محشر کا خیر کچھ بھی نتیجہ ہو اے عدمؔ کچھ گفتگو تو کھل کے کریں گے خدا کے ساتھ