سپیکرز
رابعہ کا پیش کردہ کلام
وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
وہ باتیں تری وہ فسانے ترے شگفتہ شگفتہ بہانے ترے بس اک داغ سجدہ مری کائنات جبینیں تری آستانے ترے مظالم ترے عافیت آفریں مراسم سہانے سہانے ترے فقیروں کی جھولی نہ ہوگی تہی ہیں بھرپور جب تک خزانے ترے دلوں کو جراحت کا لطف آ گیا لگے ہیں کچھ ایسے نشانے ترے اسیروں کی دولت اسیری کا غم نئے دام تیرے پرانے ترے س اک زخم نظارہ حصہ مرا بہاریں تری آشیانے ترے فقیروں کا جمگھٹ گھڑی دو گھڑی شرابیں تری بادہ خانے ترے ضمیر صدف میں کرن کا مقام انوکھے انوکھے ٹھکانے ترے بہار و خزاں کم نگاہوں کے وہم برے یا بھلے سب زمانے ترے عدمؔ بھی ہے تیرا حکایت کدہ کہاں تک گئے ہیں فسانے ترے
دل ہے بڑی خوشی سے اسے پامال کر
دل ہے بڑی خوشی سے اسے پامال کر لیکن ترے نثار ذرا دیکھ بھال کر اتنا تو دل فریب نہ تھا دام زندگی لے آئے اعتبار کے سانچے میں ڈھال کر ساقی مرے خلوص کی شدت کو دیکھنا پھر آ گیا ہوں گردش دوراں کو ٹال کر اے دوست تیری زلف پریشاں کی خیر ہو میری تباہیوں کا نہ اتنا خیال کر آیا ہوں یوں بچا کے حوادث سے زیست کو لاتے ہیں جیسے کوہ سے چشمہ نکال کر تھوڑے سے فاصلے میں بھی حائل ہیں لغزشیں ساقی سنبھال کر مرے ساقی سنبھال کر ہم سے عدمؔ چھپاؤ تو خود بھی نہ پی سکو رکھا ہے تم نے کچھ تو صراحی میں ڈال کر