سپیکرز
مرزا جواد کا پیش کردہ کلام
خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے
خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے پانی کی بوند جیسے عطا ہو فرات سے شبنم اسی جنوں میں ازل سے ہے سینہ کوب خورشید کس مقام پہ ملتا ہے رات سے ناگاہ عشق وقت سے آگے نکل گیا اندازہ کر رہی ہے خرد واقعات سے سوئے ادب نہ ٹھہرے تو دیں کوئی مشورہ ہم مطمئن نہیں ہیں تری کائنات سے ساکت رہیں تو ہم ہی ٹھہرتے ہیں با قصور بولیں تو بات بڑھتی ہے چھوٹی سی بات سے آساں پسندیوں سے اجازت طلب کرو رستہ بھرا ہوا ہے عدمؔ مشکلات سے
دل کے معاملات میں سود و زیاں کی بات
دل کے معاملات میں سود و زیاں کی بات ایسی ہے جیسے موسم گل میں خزاں کی بات اچھا وہ باغ خلد جہاں رہ چکے ہیں ہم ہم سے ہی کر رہا ہے تو زاہد وہاں کی بات زاہد ترا کلام بھی ہے با اثر مگر پیر مغاں کی بات ہے پیر مغاں کی بات اک زخم تھا کہ وقت کے ہاتھوں سے بھر گیا کیا پوچھتے ہیں آپ کسی مہرباں کی بات ہر بات زلف یار کی مانند ہے دراز جو بات چھیڑتے ہیں ، وہ ہے ، داستاں کی بات اٹھ کر تری گلی سے کہاں جاییں اب فقیر ؟ تیری گلی کے ساتھ ہے اب جسم و جاں کی بات باتیں ادھر ادھر کی سنا کر جہاں کو وہ حذف کر گئے ہیں عدم درمیاں کی بات