عبدالحمیدعدم

زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)

23 November 2025

15سپیکرز
160لسنرز

سپیکرز

مرزا جواد کا پیش کردہ کلام

خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے

خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے پانی کی بوند جیسے عطا ہو فرات سے شبنم اسی جنوں میں ازل سے ہے سینہ کوب خورشید کس مقام پہ ملتا ہے رات سے ناگاہ عشق وقت سے آگے نکل گیا اندازہ کر رہی ہے خرد واقعات سے سوئے ادب نہ ٹھہرے تو دیں کوئی مشورہ ہم مطمئن نہیں ہیں تری کائنات سے ساکت رہیں تو ہم ہی ٹھہرتے ہیں با قصور بولیں تو بات بڑھتی ہے چھوٹی سی بات سے آساں پسندیوں سے اجازت طلب کرو رستہ بھرا ہوا ہے عدمؔ مشکلات سے

— عبدالحمیدعدم

دل کے معاملات میں سود و زیاں کی بات

دل کے معاملات میں سود و زیاں کی بات ایسی ہے جیسے موسم گل میں خزاں کی بات اچھا وہ باغ خلد جہاں رہ چکے ہیں ہم​ ہم سے ہی کر رہا ہے تو زاہد وہاں کی بات زاہد ترا کلام بھی ہے با اثر مگر پیر مغاں کی بات ہے پیر مغاں کی بات اک زخم تھا کہ وقت کے ہاتھوں سے بھر گیا کیا پوچھتے ہیں آپ کسی مہرباں کی بات ہر بات زلف یار کی مانند ہے دراز جو بات چھیڑتے ہیں ، وہ ہے ، داستاں کی بات اٹھ کر تری گلی سے کہاں جاییں اب فقیر ؟ تیری گلی کے ساتھ ہے اب جسم و جاں کی بات باتیں ادھر ادھر کی سنا کر جہاں کو وہ حذف کر گئے ہیں عدم درمیاں کی بات

— عبدالحمیدعدم