عبدالحمیدعدم

زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)

23 November 2025

15سپیکرز
160لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا

تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا خوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا پل بھر میں اس کی شکل نہ آئی اگر نظر یک دم الجھ کے رشتۂ انفاس رہ گیا فوٹو میں دل کی چوٹ نہ تبدیل ہو سکی نقلیں اتار اتار کے عکاس رہ گیا وہ جھوٹے موتیوں کی چمک پر پھسل گئی میں ہاتھ میں لیے ہوئے الماس رہ گیا اک ہم سفر کو کھو کے یہ حالت ہوئی عدمؔ جنگل میں جس طرح کوئی بے آس رہ گیا

— عبدالحمیدعدم

ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے

ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے مطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے رک رک کے ساز چھیڑ کہ دل مطمئن نہیں تھم تھم کے مے پلا کہ طبیعت اداس ہے چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنی اے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اداس ہے مجھ سے نظر نہ پھیر کہ برہم ہے زندگی مجھ سے نظر ملا کہ طبیعت اداس ہے شاید ترے لبوں کی چٹک سے ہو جی بحال اے دوست مسکرا کہ طبیعت اداس ہے ہے حسن کا فسوں بھی علاج فسردگی رخ سے نقاب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے میں نے کبھی یہ ضد تو نہیں کی پر آج شب اے مہ جبیں نہ جا کہ طبیعت اداس ہے امشب گریز و رم کا نہیں ہے کوئی محل آغوش میں در آ کہ طبیعت اداس ہے کیفیت سکوت سے بڑھتا ہے اور غم قصہ کوئی سنا کہ طبیعت اداس ہے یوں ہی درست ہوگی طبیعت تری عدمؔ کمبخت بھول جا کہ طبیعت اداس ہے توبہ تو کر چکا ہوں مگر پھر بھی اے عدمؔ تھوڑا سا زہر لا کہ طبیعت اداس ہے

— عبدالحمیدعدم

عطا ہم کو بھی اک حسیں جام ہو

عطا ہم کو بھی اک حسیں جام ہو ترا بخت چمکے ترا نام ہو تمہاری پریشان زلفوں کی خیر ہمارا بھی سیدھا کوئی کام ہو تمہارا ستم ہی تو ہے زندگی تمہیں تو طبیعت کا آرام ہو کسی کے خیالات کی صبح ہو کسی کے خرابات کی شام ہو عدمؔ سے بھی تھوڑا سا حسن سلوک ستارہ جبیں ہو گل اندام ہو

— عبدالحمیدعدم