سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا
تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا خوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا پل بھر میں اس کی شکل نہ آئی اگر نظر یک دم الجھ کے رشتۂ انفاس رہ گیا فوٹو میں دل کی چوٹ نہ تبدیل ہو سکی نقلیں اتار اتار کے عکاس رہ گیا وہ جھوٹے موتیوں کی چمک پر پھسل گئی میں ہاتھ میں لیے ہوئے الماس رہ گیا اک ہم سفر کو کھو کے یہ حالت ہوئی عدمؔ جنگل میں جس طرح کوئی بے آس رہ گیا
ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے
ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے مطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے رک رک کے ساز چھیڑ کہ دل مطمئن نہیں تھم تھم کے مے پلا کہ طبیعت اداس ہے چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنی اے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اداس ہے مجھ سے نظر نہ پھیر کہ برہم ہے زندگی مجھ سے نظر ملا کہ طبیعت اداس ہے شاید ترے لبوں کی چٹک سے ہو جی بحال اے دوست مسکرا کہ طبیعت اداس ہے ہے حسن کا فسوں بھی علاج فسردگی رخ سے نقاب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے میں نے کبھی یہ ضد تو نہیں کی پر آج شب اے مہ جبیں نہ جا کہ طبیعت اداس ہے امشب گریز و رم کا نہیں ہے کوئی محل آغوش میں در آ کہ طبیعت اداس ہے کیفیت سکوت سے بڑھتا ہے اور غم قصہ کوئی سنا کہ طبیعت اداس ہے یوں ہی درست ہوگی طبیعت تری عدمؔ کمبخت بھول جا کہ طبیعت اداس ہے توبہ تو کر چکا ہوں مگر پھر بھی اے عدمؔ تھوڑا سا زہر لا کہ طبیعت اداس ہے
عطا ہم کو بھی اک حسیں جام ہو
عطا ہم کو بھی اک حسیں جام ہو ترا بخت چمکے ترا نام ہو تمہاری پریشان زلفوں کی خیر ہمارا بھی سیدھا کوئی کام ہو تمہارا ستم ہی تو ہے زندگی تمہیں تو طبیعت کا آرام ہو کسی کے خیالات کی صبح ہو کسی کے خرابات کی شام ہو عدمؔ سے بھی تھوڑا سا حسن سلوک ستارہ جبیں ہو گل اندام ہو