عبدالحمیدعدم

زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)

23 November 2025

15سپیکرز
160لسنرز

سپیکرز

صباگل کا پیش کردہ کلام

دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا

دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا تصویر کا جمال ابھرتا چلا گیا شام آئی اور آئی کچھ اس اہتمام سے وہ گیسوئے دراز بکھرتا چلا گیا غم کی لکیر تھی کہ خوشی کا اداس رنگ ہر نقش آئینے میں ابھرتا چلا گیا ہر چند راستے میں تھے کانٹے بچھے ہوئے جس کو تیری طلب تھی گزرتا چلا گیا جب تک تری نگاہ نے توفیق دی مجھے میں تیری زلف بن کے سنورتا چلا گیا دو ہی تو کام تھے دل ناداں کو اے عدمؔ جیتا چلا گیا کبھی مرتا چلا گیا

— عبدالحمیدعدم

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا پھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا ساغر شکن ہے شیخ بلا نوش کی نظر شیشے کو زیر دامن رنگیں چھپا کے لا کیوں جا رہی ہے روٹھ کے رنگینیِ بہار جا ایک مرتبہ اسے پھر ورغلا کے لا دیکھی نہیں ہے تو نے کبھی زندگی کی لہر اچھا تو جا عدمؔ کی صراحی اٹھا کے لا

— عبدالحمیدعدم