کلامِ شاعر
- 01 کب پھول کھلیں شغل چھڑے جامہ دری کا
- 02 دن ہے بھاری غم فرقت کے گرفتاروں پر
- 03 وقار ضبط یہی دل کو دل بنا کے رہا
- 04 بقدر شوق جو اب ان کا آسرا نہ رہا
- 05 سوچ کیا اس کا ملا کیا اور کیا مطلوب تھا
- 06 رات بھر فصل بہار آنے کا ساماں ہونا
- 07 جو خود نہ اپنے ارادے سے بد گماں ہوتا
- 08 نیاز و ناز کا یہ سلسلہ نہیں جاتا
- 09 پہونچی نہ دل کی بات حدود پیام تک
- 10 درماں ملا تو درد کا عنواں بدل گیا
- 11 جنوں بگڑی ہوئی حالت کے بننے کا گماں کب تک
- 12 ہے مذاق زندہ دلی یہی اسی مصلحت نے مزا دیا
- 13 قریب کچھ نہ ملا دور سے دھواں دیکھا
- 14 نہ رکھا کہیں کا نہ اپنا بنایا
- 15 تری سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ آ جانے سے کیا ہوگا
- 16 رات گزری پھر اندھیرا چھا گیا
- 17 اک چاہ کی نگاہ کا افسانہ بن گیا
- 18 اب ہم کو کسی سے کوئی شکوہ نہ رہے گا
- 19 تم کو تو کبھی دل سے بلانا نہیں آتا
- 20 قسمت میں خوشی جتنی تھی ہوئی اور غم بھی ہے جتنا ہونا ہے
- 21 آج یوں دل نے ان کا نام لیا
- 22 مایوس خود بہ خود دل امیدوار ہے
- 23 ہمیں نے ان کی طرف سے منا لیا دل کو (ردیف .. ا)
- 24 حسن کی فطرت میں دل آزاریاں
- 25 اللہ نظر کوئی ٹھکانہ نہیں آتا
- 26 یہی اچھا ہے جو اس طرح مٹائے کوئی
- 27 ان کے ستم بھی کہہ نہیں سکتے کسی سے ہم
- 28 جو چاہتے ہو سو کہتے ہو چپ رہنے کی لذت کیا جانو