کلامِ شاعر
- 01 التجا
- 02 بوریت
- 03 طعنے
- 04 تو کمسن اور یہ ہنگامہ ہائے شہر عشق
- 05 اک حسن باریاب سے آگے نہیں بڑھے
- 06 زمانے کے لیے بہرے ہوئے تھے ہم دونوں
- 07 عالم ہجر میں جینا نہیں اچھا لگتا
- 08 ستم ظریفوں نے سمجھا ہے کیا محبت کو
- 09 دور دل سے مرے وحشت نہیں کی جا سکتی
- 10 اک روٹھنے کی ہم کو ادا تک نہیں آئی
- 11 حسین ایسا تھا وہ کہ پڑتے نظر گیا دل
- 12 در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندر
- 13 ٹھوکروں میں اثر نہیں آیا
- 14 نکل ہی آتی تھی صورت کبھی پلٹنے کی
- 15 ہنسنے کا سبب یاد نہ رونے کی وجہ یاد
- 16 یار یہ لوگ تو کہہ دیتے ہیں سب سے باتیں
- 17 تھے بڑی شان سے رکھے ہوئے افلاک پہ ہم
- 18 تو ٹھیک ہے چلا لیں گے دعا سلام سے کام
- 19 کوئی رستہ سمجھ نہ آئے مجھے
- 20 پہچان میں نہ آئے تھے اتنے بھرے ہوئے
- 21 کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی
- 22 بہت ستایا ہے مجھ کو ذرا سی جا کے لئے
- 23 دوست بہت رہے مگر یار نہیں بنا کوئی
- 24 لگا ہوں بولنے تو بڑبڑا رہا ہوں میں
- 25 تیری محفل مری شرکت نہیں دیکھی جاتی
- 26 یہ دل پہ ایک زخم ہے جو تیرے ہاتھ کا
- 27 ایک صحرا میں بو دیا ہے مجھے
- 28 اپنے گھر اس نے بات کی تھی مری
- 29 تجھے خبر نہیں ہم پر دباؤ ڈالے گئے
- 30 جو بھی تھا ختم ہو گیا مجھ میں
- 31 ہمارے شہر میں اعلان عید ہو گیا ہے
- 32 نہ چاہتے ہوئے ہونٹوں کو کھول لیتے ہیں
- 33 ہر ایک شخص جہاں انتقام لے رہا تھا
- 34 کوئی امید نہیں باقی مگر دیکھتے ہیں
- 35 جام پر جام پیے جائیں گے ہم
- 36 زندگی باعث امید بھی رسوائی بھی
- 37 ٹھوکروں میں اثر نہیں آیا
- 38 ہر ایک شخص جہاں انتقام لے رہا تھا
- 39 روبرو تیرے بہت دیر بٹھایا گیا میں
- 40 ہجرت کا ارادہ تو ہمارا بھی نہیں تھا
- 41 گرا پڑا کے نہ یوں تار تار کر مجھ کو
- 42 اب اس بھرم میں ہر اک رات کاٹنی ہے مجھے
- 43 تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا
- 44 زمانہ اس لیے لہجہ بدل رہا ہے دوست
- 45 زندگی تو نے سلوک ایسے کیے ساتھ مرے
- 46 پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہے