کلامِ شاعر
- 01 عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا
- 02 ساری عمر گنوا دی ہم نے
- 03 پتھروں کی قید میں اک آب جو
- 04 عجیب ہے یہ سلسلہ
- 05 تم جو آتے ہو
- 06 بانجھ
- 07 کٹھور راہیں
- 08 چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں
- 09 دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا
- 10 بدّل باہجھ ہوا
- 11 بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوں
- 12 وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے
- 13 تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال
- 14 اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے
- 15 کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا
- 16 منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی
- 17 نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے
- 18 اس کے دشمن
- 19 تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا
- 20 بے زباں کلیوں کا دل میلہ کیا
- 21 آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے
- 22 اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے
- 23 سکھا دیا ہے زمانے نے بے بصر رہنا