کلامِ شاعر
- 01 گرد سفر میں راہ نے دیکھا نہیں مجھے
- 02 دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے
- 03 میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا
- 04 غبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا
- 05 یوں بولی تھی چڑیا خالی کمرے میں
- 06 پھولوں کی انجمن میں بہت دیر تک رہا
- 07 کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کا
- 08 اس دشت بے پناہ کی حد پر بھی خوش نہیں
- 09 ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے
- 10 عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی
- 11 جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا
- 12 یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں
- 13 کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے
- 14 کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو
- 15 تندلکر اک روز ستارے
- 16 کبھی کبھی ہم
- 17 محبت کا سبق آساں تھا لیکن بھلا بیٹھا
- 18 اے خدائے لم یزل
- 19 مرے دل کے ٹوٹے ستارے کو تم نے
- 20 جب ستارے کہیں نہیں ہوتے
- 21 طالبان
- 22 اک صبح جب بہار تھی کمرے میں میز پہ
- 23 بہت تھوڑے سے دنوں کے لیے
- 24 اگر ہم روز ملتے یہ جہاں ویراں نہ ہوتا
- 25 اے پرندے تو ہے اپنی آگ میں جلتا ہوا
- 26 موت اور زندگی کی سرحد پر
- 27 ریلوے لائن اسٹیشن سے
- 28 چڑیا پانی پینے آئی لیکن کوئی بات نہ کی
- 29 میں بھی ہوں اس جہاں میں
- 30 سورج کی اک کرن
- 31 حد
- 32 زندگی کھو نہیں گئی لیکن
- 33 گڑھی میرا
- 34 چھوٹی سی عورت
- 35 اک عمر دل کے پاس رہا وہ مگر کہیں
- 36 میں نے اک خواب اک لفافے میں
- 37 ایک مور
- 38 سوچتے سوچتے
- 39 بہار آنے سے پہلے
- 40 ہوا چلی
- 41 رات اک ستارے نے
- 42 تم نے کتاب کھول کے دیکھی نہیں ابھی
- 43 جواہر لال یونیورسٹی کے طلبا کے لیے
- 44 نیم تاریک محبت
- 45 ایک محبت
- 46 خدا گر ہمیں اک پرندہ بناتا
- 47 تم اگر یہاں ہوتیں
- 48 مری دوست اب تم
- 49 تم سے مل کے
- 50 اے پرندو کسی شام اڑتے ہوئے
- 51 خواب جیسی کہیں کہیں شاید
- 52 پہلی بار
- 53 کسی دن تمہیں یاد کرتے ہوئے میں
- 54 سنا ہے میں نے کہ اب ستارے
- 55 کسی دن تیز بارش میں