شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

احمد کا پیش کردہ کلام

آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئی

آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئی دل کو کھینچے لیے جاتا ہے کوئی وائے حیرت کہ بھری محفل میں مجھ کو تنہا نظر آتا ہے کوئی صبح کو خنک فضاؤں کی قسم روز آ آ کے جگاتا ہے کوئی منظر حسن دو عالم کے نثار مجھ کو آئینہ دکھاتا ہے کوئی چاہیے خود پہ یقین کامل حوصلہ کس کا بڑھاتا ہے کوئی سب کرشمات تصور ہیں شکیلؔ ورنہ آتا ہے نہ جاتا ہے کوئی

— شکیل بدیوانی

مجھے بھول جا

مرے ساقیا مجھے بھول جا مرے دل ربا مجھے بھول جا نہ وہ دل رہا نہ وہ جی رہا نہ وہ دور عیش و خوشی رہا نہ وہ ربط و ضبط دلی رہا نہ وہ اوج تشنہ لبی رہا نہ وہ ذوق بادہ کشی رہا میں الم نواز ہوں آج کل میں شکستہ ساز ہوں آج کل میں سراپا راز ہوں آج کل مجھے اب خیال میں بھی نہ ملا مجھے بھول جا مجھے بھول جا مجھے زندگی سے عزیز تر فقط ایک تیری ہی ذات تھی تری ہر نگاہ مرے لیے سبب سکون حیات تھی مری داستان وفا کبھی تری شرح حسن صفات تھی مگر اب تو رنگ ہی اور ہے نہ وہ طرز ہے نہ وہ طور ہے یہ ستم بھی قابل غور ہے تجھے اپنے حسن کا واسطہ مجھے بھول جا مجھے بھول جا قسم اضطراب حیات کی مجھے خامشی میں قرار ہے مرے صحن گلشن عشق میں نہ خزاں ہے اب نہ بہار ہے یہی دل تھا رونق انجمن یہی دل چراغ مزار ہے مجھے اب سکون دگر نہ دے مجھے اب نوید سحر نہ دے مجھے اب فریب نظر نہ دے نہ ہو وہم عشق میں مبتلا مجھے بھول جا مجھے بھول جا

— شکیل بدیوانی