شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے ترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہے کہاں جام غم کی تلخی کہاں زندگی کا درماں مجھے وہ دوا ملی ہے جو مری دوا نہیں ہے تو بچائے لاکھ دامن مرا پھر بھی ہے یہ دعویٰ ترے دل میں میں ہی میں ہوں کوئی دوسرا نہیں ہے تمہیں کہہ دیا ستمگر یہ قصور تھا زباں کا مجھے تم معاف کر دو مرا دل برا نہیں ہے مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے یہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے یہ اداس اداس چہرے یہ حسیں حسیں تبسم تری انجمن میں شاید کوئی آئنا نہیں ہے مری آنکھ نے تجھے بھی بہ خدا شکیلؔ پایا میں سمجھ رہا تھا مجھ سا کوئی دوسرا نہیں ہے

— شکیل بدیوانی

محبت کی حقیقت

محبت کی حقیقت محبت بے غرض یا خودغرض ھے محبت بے ریا یا بس ریا ھے یہ ھے بے لوث یا ھے لوث پرور ھے سچی مہرباں یا سنگدل ھے یہ ھے کیا انکساری یا تکبر سخاوت اس کا خاصہ یا بخیلی عبادت کی ھےصورت یا حوس ھے محبت درد مندی یا کہ ھے ایذا رسانی محبت کی حقیقت کیا ھے آخر محبت۔۔۔۔ محبت اک صحیفہ ھے جو پہلی سانس لیتے ھی ھمارے دل پہ اُترا ھے صحیفوں میں تو لکھا ھے ریا کاری عبادت خاک کر جائے تو پھر کیسے ریا کاری محبت ھو حوس میں اور محبت میں یہ اک تفریق واضح ھے محبت وصل کے ھونے نہ ھونے سے مُبرّا ھے حوس ھے یہ جو بس اک وصل کی خاطر ہر اک حد سے گُزر جائے حوس کو ھم محبت کہہ نہیں سکتے محبت پارسائی ھے یہ اک بے لوث جذبہ ھے وصل کی خواہشوں سے ماورا ھو کر جسےنہ قول دینا ھے نہ ہی اقرار سننا ھے بنا شرطوں کے بس جس نے کسی کودل میں رکھنا ھے جسے محبوب کی خوشیوں میں خوش رہنے میں راحت ھے یہی اِس کی حقیقت ھے یہی سچی محبت ھے

— سجاد رضا