سپیکرز
سجاد رضا کا پیش کردہ کلام
کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے
کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے ترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہے کہاں جام غم کی تلخی کہاں زندگی کا درماں مجھے وہ دوا ملی ہے جو مری دوا نہیں ہے تو بچائے لاکھ دامن مرا پھر بھی ہے یہ دعویٰ ترے دل میں میں ہی میں ہوں کوئی دوسرا نہیں ہے تمہیں کہہ دیا ستمگر یہ قصور تھا زباں کا مجھے تم معاف کر دو مرا دل برا نہیں ہے مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے یہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے یہ اداس اداس چہرے یہ حسیں حسیں تبسم تری انجمن میں شاید کوئی آئنا نہیں ہے مری آنکھ نے تجھے بھی بہ خدا شکیلؔ پایا میں سمجھ رہا تھا مجھ سا کوئی دوسرا نہیں ہے
محبت کی حقیقت
محبت کی حقیقت محبت بے غرض یا خودغرض ھے محبت بے ریا یا بس ریا ھے یہ ھے بے لوث یا ھے لوث پرور ھے سچی مہرباں یا سنگدل ھے یہ ھے کیا انکساری یا تکبر سخاوت اس کا خاصہ یا بخیلی عبادت کی ھےصورت یا حوس ھے محبت درد مندی یا کہ ھے ایذا رسانی محبت کی حقیقت کیا ھے آخر محبت۔۔۔۔ محبت اک صحیفہ ھے جو پہلی سانس لیتے ھی ھمارے دل پہ اُترا ھے صحیفوں میں تو لکھا ھے ریا کاری عبادت خاک کر جائے تو پھر کیسے ریا کاری محبت ھو حوس میں اور محبت میں یہ اک تفریق واضح ھے محبت وصل کے ھونے نہ ھونے سے مُبرّا ھے حوس ھے یہ جو بس اک وصل کی خاطر ہر اک حد سے گُزر جائے حوس کو ھم محبت کہہ نہیں سکتے محبت پارسائی ھے یہ اک بے لوث جذبہ ھے وصل کی خواہشوں سے ماورا ھو کر جسےنہ قول دینا ھے نہ ہی اقرار سننا ھے بنا شرطوں کے بس جس نے کسی کودل میں رکھنا ھے جسے محبوب کی خوشیوں میں خوش رہنے میں راحت ھے یہی اِس کی حقیقت ھے یہی سچی محبت ھے