سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
احمد
انتظار حسین
ایم سعید
تنہاملک
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
روح من
زاہد
سجاد رضا
سحر
سید جینٹلمین
طارق
فکر
کریسنٹ
ملک
نایاب
ندیم بخاری
وسیم بخاری
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر
لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر زندگی دشوار ہے تیرے بغیر دل کی بے تابی کا عالم کیا کہوں ہر نفس تلوار ہے تیرے بغیر مجمع احباب و ارباب وفا مجمع اغیار ہے تیرے بغیر تجھ سے برہم ہوں کبھی خود سے خفا کچھ عجب رفتار ہے تیرے بغیر زندگی سے موت اک اک گام پر بر سر پیکار ہے تیرے بغیر عالم فرقت میں ذکر خواب کیا نیند خود بیدار ہے تیرے بغیر شام غم کروٹ بدلتا ہی نہیں وقت بھی خوددار ہے تیرے بغیر آ مسیحا آ کہ اب تیرا شکیلؔ جان سے بے زار ہے تیرے بغیر
دور ہیں وہ اور کتنی دور
دور ہیں وہ اور کتنی دور پھر بھی مری نظروں کے حضور رنج و مصیبت جور و ستم آپ کی خاطر سب منظور دل پر بیتے لب پہ نہ آئے ہائے محبت کا دستور حسرت دید از دید بلند حور سے بہتر وعدۂ حور پردۂ رنگ و بو تو اٹھاؤ ہوگا کوئی نہ کوئی ضرور دور ترقی کیا ہے شکیلؔ دنیا کی عقلوں کا فتور