شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر

لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر زندگی دشوار ہے تیرے بغیر دل کی بے تابی کا عالم کیا کہوں ہر نفس تلوار ہے تیرے بغیر مجمع احباب و ارباب وفا مجمع اغیار ہے تیرے بغیر تجھ سے برہم ہوں کبھی خود سے خفا کچھ عجب رفتار ہے تیرے بغیر زندگی سے موت اک اک گام پر بر سر پیکار ہے تیرے بغیر عالم فرقت میں ذکر خواب کیا نیند خود بیدار ہے تیرے بغیر شام غم کروٹ بدلتا ہی نہیں وقت بھی خوددار ہے تیرے بغیر آ مسیحا آ کہ اب تیرا شکیلؔ جان سے بے زار ہے تیرے بغیر

— شکیل بدیوانی

دور ہیں وہ اور کتنی دور

دور ہیں وہ اور کتنی دور پھر بھی مری نظروں کے حضور رنج و مصیبت جور و ستم آپ کی خاطر سب منظور دل پر بیتے لب پہ نہ آئے ہائے محبت کا دستور حسرت دید از دید بلند حور سے بہتر وعدۂ حور پردۂ رنگ و بو تو اٹھاؤ ہوگا کوئی نہ کوئی ضرور دور ترقی کیا ہے شکیلؔ دنیا کی عقلوں کا فتور

— شکیل بدیوانی