شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں

بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں مرحلے عشق کے دشوار نظر آتے ہیں کشتئ غیرت‌ احساس سلامت یا رب آج طوفان کے آثار نظر آتے ہیں انقلاب آیا نہ جانے یہ چمن میں کیسا غنچہ و گل مجھے تلوار نظر آتے ہیں جن کی آنکھوں سے چھلکتا تھا کبھی رنگ خلوص ان دنوں مائل تکرار نظر آتے ہیں جو سنا کرتے تھے ہنس ہنس کے کبھی نامۂ شوق اب مری شکل سے بیزار نظر آتے ہیں ان کے آگے جو جھکی رہتی ہیں نظریں اپنی اس لیے ہم ہی خطاوار نظر آتے ہیں دشمن خوئے وفا رسم محبت کے حریف وہی کیا اور بھی دو چار نظر آتے ہیں جنس نایاب محبت کی خدا خیر کرے بوالہوس اس کے خریدار نظر آتے ہیں وقت کے پوجنے والے ہیں پجاری ان کے کوئی مطلب ہو تو غم خوار نظر آتے ہیں جائزہ دل کا اگر لو تو وفا سے خالی شکل دیکھو تو نمک خوار نظر آتے ہیں روز روشن میں اگر ان کو دکھاؤ تارے وہ یہ کہہ دیں گے کہ سرکار نظر آتے ہیں ہم نہ بدلے تھے نہ بدلے ہیں نہ بدلیں گے شکیلؔ ایک ہی رنگ میں ہر بار نظر آتے ہیں

— شکیل بدیوانی

نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہے

نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہے نئی دنیا کے رندوں میں خدا کا نام چلتا ہے غم عشق سے ہیں غم ہستی کے ہنگامے جدا لیکن وہاں بھی دن گزرتے ہیں یہاں بھی کام چلتا ہے چھپے ہیں لاکھ حق کے مرحلے گم نام ہونٹوں پر اسی کی بات چل جاتی ہے جس کا نام چلتا ہے جنون رہروی وقت کی رفتار سے پوچھو کوئی منزل نہیں لیکن یہ صبح و شام چلتا ہے شکیلؔ مست کو مستی میں جو کہنا ہے کہنے دو یہ مے خانہ ہے اے واعظ یہاں سب کام چلتا ہے

— شکیل بدیوانی

گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے

گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے صبح جب نکلتے تھے پھول خواب گاہوں سے خوں بہا عزیزوں کا آفتاب سے لوں گا دھوپ کھا گئی میرے لوگ ٹھنڈی چھاؤں سے آئینہ چٹخنے میں دیر کتنی لگتی ہے یوں سوال کرتے ہو گونگی بہری ماؤں سے سامنے پڑی تھی اور ہاتھ تک لگایا نئیں ہم نے اک طرف کر دی دنیا اپنے پاؤں سے جسم شہر آیا تھا جسم شہر رہتا ہے دل کو لاکھ سمجھایا دل نہ آیا گاؤں سے آپ نے دیے تھے جو زخم کافی گہرے تھے اب وہ خاصے بہتر ہیں آپ کی دعاؤں سے خالی کا سے مت پھینکو، آؤ اب کے گلیوں میں دل روانہ کرتے ہیں باندھ کر صداؤں سے

— راکب مختار