سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے مرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر یہ تری نوازش مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے تو ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے
دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا
دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا آج مجھے احساس ہوا ہے، اپنی شکستہ پائی کا دیکھ کے مجھ کو دنیا والے کہنے لگے ہیں دیوانہ آج وہاں ہے عشق جہاں کچھ خوف نہیں رسوائی کا چھوڑ دے رسمِ خودنگہی کو، توڑ دے اپنا آئینہ ختم کیے دیتا ہے ظالم، روپ تری انگڑائی کا میں نے ضیا جو حسن کو بخشی، اس کا تو کوئی ذکر نہیں لیکن گھر گھر میں چرچا ہے آج تری رعنائی کا اہلِ ہوس اب پچھتاتے ہیں ڈوب کے بحرِ غم میں شکیلؔ پہلے نہ تھا ان بے چاروں کو اندازہ گہرائی کا