شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے مرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر یہ تری نوازش مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے تو ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے

— شکیل بدیوانی

دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا

دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا آج مجھے احساس ہوا ہے، اپنی شکستہ پائی کا دیکھ کے مجھ کو دنیا والے کہنے لگے ہیں دیوانہ آج وہاں ہے عشق جہاں کچھ خوف نہیں رسوائی کا چھوڑ دے رسمِ خودنگہی کو، توڑ دے اپنا آئینہ ختم کیے دیتا ہے ظالم، روپ تری انگڑائی کا میں نے ضیا جو حسن کو بخشی، اس کا تو کوئی ذکر نہیں لیکن گھر گھر میں چرچا ہے آج تری رعنائی کا اہلِ ہوس اب پچھتاتے ہیں ڈوب کے بحرِ غم میں شکیلؔ پہلے نہ تھا ان بے چاروں کو اندازہ گہرائی کا

— شکیل بدیوانی