شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلۂ نوحہ گری اس قدر گردش ایام پہ رونا آیا جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔ مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا

— شکیل بدیوانی

مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے مرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر یہ تری نوازش مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے تو ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے

— شکیل بدیوانی