سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلۂ نوحہ گری اس قدر گردش ایام پہ رونا آیا جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔ مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا
مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے مرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر یہ تری نوازش مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے تو ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے